میاں محمد نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ طے شدہ تھا،حفیظ الرحمن
  12  اگست‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( شاہد کریم سے) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ طے شدہ تھا ، ان کو پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلانے کی پاداش میں سزا دی گئی ، دھرنا ون بھی اسی سازش کا حصہ تھا ، نواز شریف کو نکالنے والے سوچ رہے تھے کہ وہ خاموشی سے نکل جائینگے مگر ان کی سوچ غلط ثابت ہوئی ، ہر ادارے کو اپنا کام کرنا چاہئیے ، جمہوری نظام اور سیاسی استحکام ہی مضبوط معیشت اور آزاد خارجہ پالیسی کی ضامن ہے ، افغانستان میں سیاسی اور جمہوری استحکام آیا مگر بد قسمتی سے پاکستان میں اب تک نہیں آسکا ، نواز شریف کو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی جرم میں سزا ہوئی اور ان کو فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا ۔ اگر ہمیں عدالتی فیصلے پر تنقید کرنے پر توہین عدالت کہا جاتا ہے تو بھٹو کو شہید کہنا توہین نہیں ہے ؟ ہماری نظر میں بھٹو کا پھانسی بھی عدالتی قتل تھا ، نواز شریف نے اپنے ماتحت آفیسران کے سامنے پیش ہوکر آئین و قانون کا احترام کرکے مثال قائم کی ہے ۔ انہوں نے کبھی استثنیٰ نہیں مانگا ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے ججز کی جانب سے وزیر اعظم کو گاڈ فادر اور مافیا جیسے الفاظ استعمال کئے گئے جبکہ لینڈ مافیا اور اصل گاڈ فادر ملک ریاض جیسے لوگوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہوتا جس شخص کے خؒ اف کرپشن کا کوئی الزام نہیں ان کو نکالا گیا اور اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کی تو ہمیں غدار قرار دیا گیا ۔ ہم سیاسی اور جمہوری نظام کے تسلسل کو بر قرار رکھنا چاہتے ہیں اور ہماری جدوجہد بھی اس کیل لئے ہے ۔ آمریت میں اپنی فورسز کو کرایے پر بھیجا گیا لیکن جمہوری دور میں ہماری فورسز کو کرایے پر یمن یا شام نہیں بھیجا۔ میاں نواز شریف نے سعودی عرب سے زاتی تعلقات کے باوجود عرب ممالک اور قطر تنازعے میں اپنے ملک کو غیر جانبدار رکھا ، جمہوری دور میں دوسروں کی جنگ کو اپنا حصہ نہیں بنایا ، جنرل ضیاء اور مشرف دور میں دوسروں کے اشاروں پر ارفغان جنگ میں اپنے ملک کو شامل کیا جس کا خمیازہ آج ملک و قوم بھگت رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو ہر طالع آزما نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا اور اس مسلم لیگ کو نواز شریف نے مقبول جماعت بنایا۔ نواز شریف کو نکالا گیا ہے مگر وفاق، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں نواز شریف کی پالیسیوں پر عمل ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ آئینی حقوق کے حوالے سے قائم کمیٹی نے پانامہ فیصلے کے روز سفارشات کی حتمی منظوری دینی تھی مگر میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے کے بعد آئینی و اصلاحاتی کمیٹی بھی تحلیل ہو گئی اب کمیٹی کی از سر نو تشکیل اور نوٹیفکیشن ہوگا ۔ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی سے بھی اہم قومی مالیاتی اداروں میں نمائندگی ہے ۔ این ایف سی ایوارڈ میں گلگ بلتستان کو حصہ دینے کیلئے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے مخالفت کی جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کو اس سال این ایف سی میں حصہ نہیں ملا ۔ این ایف سی اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جب تک گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور فاٹا کو این ایف سی میں حصہ نہیں ملتا اور ان کو بھی شامل نہیں کیا جاتا این ایف سی کا اگلا اجلاس نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ ترقیاتی فنڈز وفاقی وزارت خزانہ براہ راست صوبائی حکومت کو فراہم کرے ، کشمیر افئیرز کے ذریعے نہیں دیا جائے ۔ اگلے چند ماہ میں شیڈول Vکے تحت اختیارات ملیں گے جس سے صوبائی حکومت کو مالیاتی اختیارات حاصل ہونگی ۔ گلگت بلتستان یں گریڈ 20کے آفیسران موجود نہیں جس کی وجہ سے گریڈ 19کے آفیسران کے خلاف انکوائری نہیں کرا سکتے جس سے گلگت بلتستان میں احتساب کا مسئلہ موجود ہے ۔ معائنہ کمیشن کے پاس صرف سفارشات کا اختیار ہے سزا کا نہیں ، ہم نے پانچ انکوائریاں معائنہ کمیشن کو بھجوائی مگر انہوں نے کہا کہ ان پر انکوائری نہیں ہو سکتی ، صوبائی حکومت نے کرپشن کے 29کیسز جس میں سو سے زائد آفیسران کے نام شامل ہیں نیب کو بھجوائے ہیں مگر اب تک نیب نے ان پر ابتدائی کارروائی تک نہیں کی ہے ۔ ایف آئی اے صوبائی حکومت اور اداروں کے ضابطگیوں کے حوالے سے انکوائری نہیں کر سکتی سہ ڑف وفاقی ادارے اور فنڈز کے حوالے سے ہی انکوائری کر سکتے ہیں ۔ اس وقت ٹیکنیکل کالج چھملس داس ، نیو ٹیک کا کیس ایف آئی اے کے زیر انکوائری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں چھوٹے فیکٹریوں فروغ دینے کیلئے گلگت مناور میں سمال انڈسٹریل زون قائم کررہے ہیں ، تمام سمال انڈسٹریز کو وہاں منتقل کیا جائیگا اور ان کو سہولیات فراہم کرینگے ۔ گلگت بلتستان میں ہر زمین متنازعہ ہے اور اب تک متنازعہ زمین 47افراد کے قتل کا وجہ بن چکی ہے ، صوبائی حکومت لینڈ ریفارمز کمیشن کے ذریعے ان تمام زمینوں کے تنازعات کو ختم کریگی اور ایفاد کے ذریعے آٹھ لاکھ کنال زمین کو آباد کرینگے جبکہ اس وقت گلگت بلتستان صرف چھ لاکھ کنال زمین قابل کاشت ہے ۔ ایفاد میں میرٹ پر بھرتیاں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے یہ منصوبہ کامیابی سے چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت شہر کے تھانوں میں اضافی نفری کی تعیناتی اور وسائل فراہم کرنے کیلئے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے ۔ 90کروڑ کے لاگت سے محکمہ پولیس میں جدید کمیونیکیشن نظام قائم کررہے ہیں جس سے پولیس کو بین الاضلاعی وائرلیس کے ذریعے رابطوں کو یقینی بنایا جائیگا جبکہ پانچ کروڑ کے منصوبے کے تحت ٹریفک نظام کو جدید خطوط سے استوار کیا جائیگا ۔

ٹریفک اہلکاروں کیلئے ٹریفک کی موثر کنٹرول کیلئے ہیوی موٹر سائیکل اور کاریں خریدی جائینگی ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ورکس میں استعداد کار کی کمی ہے جس کی وجہ سے ماسٹر پلان پر کام نہیں ہو رہا ۔ بغیر پلاننگ کے سڑک تعمیر کی جاتی اور اس کو بعد میں اکھاڑا جاتا ہے ۔ گلگت شہر کی تمام سڑکوں کو میٹل کیا جائیگا ۔ حکومت تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو دو سے تین کروڑ کے فنڈز فراہم کررہی ہے جو تمام اضلاع کے داخلی راستوں پر باب کی تعمیر ، شہر خموشاں کے نام پر قبرستانوں کی چار دیواری ، چوکیدار کیلئے ، غسل خانے کی تعمیر کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ دو سالوں میں ہم نے اداروں میں ریفارمز اور کام کرنا تھا اب باضابطہ طور پر گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں کھلی کچہری قائم کرینگے ۔ آج دنیور میں پہلی کھلی کچہری کرینگے ۔ اس کے بعد گلگت ، جگلوٹ اور دیگر اضلاع میں جائینگے ۔ عوام کے پاس اگر کوئی شکایت یا کرپشن کا ثبوت ہو تو وہ سامنے لائیں ۔ گلگت بلتستان میں کام کرنے کے بہت سے مواقع ہیں اور اگر کام کرے تو نظر بھی آتا ہے ۔ پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں کچھ نہیں کیا ، نگر حلقہ چار ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد پیپلز پارٹی کے چےئرمین بلاول بھٹو نے نگر کے عوام کیلئے کراچی میں زمین فراہم کرنے ، گلگت بلتستان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی قائم کرنے اور دو آر سی سی پلوں کی تعمیر کا اعلان کے اہے اب دیکھنا ہے کہ ان پر عمل درآمد کب ہوگا ۔ پیپلز پارٹی کے چےئرمین بلاول بھٹو کا دورہ گلگت بلتستان خوش آئند ہے ، کسی بھی قومی پارٹی کے لیڈر کا علاقے میں آنا فائدہ مند ہے ۔ صوبائی حکومت بلاول بھٹو کو مکمل سیکورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کریگی ۔ مسلم لیگ ن نے الیکشن کے دوران جو وعدے کئے گئے ان کو پورا کر لیا ہے ۔ چار اضلاع کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ گلگت سکردو روڈ پر جلد کام شروع ہوگا ۔ گلگت میں کینسر ہسپتال قائم کرنے کی منظوری لی ہے چھ ماہ میں ہسپتال کی تعمیر پر کام شروع ہوگا ۔ تین بلین سے پولیس کی نئی یونٹ قائم کی جائیگی جس کیلئے رقم ریلیز کی جا چکی ہے ۔ استور روڈ کا اسی ہفتے افتتاح ہوگا ، گلگت ، غذر روڈ کی فوری مرمت کیلئے دس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، گلگت بلتستان کی ترقی پورے آب و تاب سے جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کا ورکر ہوں اور مجھے اس عہدے پر قائد نواز شریف نے بٹھایا ہے ۔ پارٹی میں میرے خلاف سازشوں کی افواہیں بے بنیاد ہیں لوگ نواز شریف کی نا اہلی پر پارٹی ٹوٹ جانے کی باتیں کرتے تھے مگر اب پارٹی پہلے سے منظم اور متحد ہے ۔ نواز شریف کے خلاف سازش بیرونی ہے مگر مخالف سیاسی جماعتیں صرف مہرے ہیں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved