نگر،سرکاری اساتذہ ڈسٹرکٹ آفس میں مصروف، طلبہ نے نجی اداروں کا رخ کر لیا
  12  ستمبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

نگر(اوصاف نیوز)ضلع نگر کے اسکولوں کے اساتذہ ڈسٹرکٹ دفتر میں مصروف،کئی اسکولوں سے درجنوں طلباء نجی اسکولوں میں داخل،ضلعی دفتر سے منظور نظر اسکولوں کے اساتذہ کو ہمیشہ مختلف پروگراموں کے لئے سیلیکٹ کیا جارہا ہے،جبکہ بعض اسکولوں کے اراضی پر تجاوزات جاری تو بعض کے اراضی پر معاوضہ ہضم کرنے کے باوجود لوگ قابض،اسکولوں کے عمارات کئی کئی سالوں سے نامکمل،ٹھیکیداران پیسے لے کے عوام کو ٹھینگے دکھانے لگے ،ڈی ڈی اوز سے اسکولوں تک رقوم منتقل تو ہوتے ہیں لیکن سوائے تھوڑا بہت دیواروں پر چونالگا کے بعض ہیڈماسٹرز طلباء کو چونا لگانے میں مصروف ،ضلع کے بعض اساتذہ اے ڈی آیزبن کے بیک وقت ایک ٹکٹ میں دو مزے لینے لگے ،جسکی وجہ سے ضلع میں کوالٹی ایجوکیشن خواب بن کے رہ گئی ہے کئی اسکولوں کے طلباء نے نجی اداروں کا رخ کیا ہے ،ماہانہ ضلعے میں کروڑوں کا رقم خرچ لیکن نتیجہ کاغزوں کے حد تک ٹھیک ،عوامی اور سماجی حلقوں کا وزیر اعلی اور سکرٹری ایجوکیشن سے تعلیمی نظام ٹھیک کرنے کا پرزور اپیل،تفصیلات کے مطابق ضلع نگر کے سرکاری اسکولوں کے کئی درجن طلباء اس لئے اداروں سے نکل گئے ہیں کہ یہاں مفت کتابوں کی فراہمی کے نام پر ٹائم ضائع کرایا گیااور اساتذہ اسکولوں سے تنخواہیں لیتے ہوئے مختلف دفاتر میں کام کرتے ہیں جبکہ بعض اساتذہ اے ڈی آیئز بن کے ٹیچر الاونس بھی ہضم کرتے ہیں اور ٹی اے ڈی ایز بھی کھا جاتے ہیں جسکی وجہ سے اسکولز میں کلاسز بھی ڈسٹرب ہورہے ہیں ،ضلعی نائب ناظم کے دفتر میں موجود ایک مخصوص مافیا مختلف اسکولوں کے منظور نظر اساتذہ کو ہمیشہ ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں اور کسی بھی فائدے والی ڈیوٹی میں یہی منظور نظر اساتذہ کا نام آگے کیا جاتا ہے اوپن یونیورسٹی ایگزام ڈیوٹی ہو یا کے آئی یو ایگزام ڈیوٹی،مردم شماری ڈیوٹی ہو یا انٹخابی ڈیوٹی،ٹریننگ یا ورکشاپس ہوں یا دیگر فائدے والی پروگرام ہمیشہ مخصوص اساتذہ کی پانچویں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں جبکہ ضلع کے کئی اسکولز کی عمارات یا تو التوا کا شکار ہیں

یا تو آس پاس کے کاشتکاروں کا اسکول کے اراضی پر قبضہ ہے اس سلسلے میں محکمہ تعلیم کے ذمہ داران سے پوچھنے پر نزلہ ضلعی انتظامیہ پر ڈال کے لاکھوں میں تنخواہیں ہضم کرنے میں ہی عافیت جانتے ہیں جبکہ انتظامیہ کے چھوٹے ملازمین جب زمین کی ناپ تول کرنے جاتے ہیں تو قبضہ مافیا یا تو انہیں ڈراتے ہیں یا توانہیں رام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ایسے اسکولوں میں غلمت بوائز اسکول،مناپن بوائز اسکول سمیت مسوٹ قاسم آباد اسکول سمیت دیگر اسکولوں کی اراضی کئی سالوں سے ذمہ دران کی راہ تک رہی ہے ۔جبکہ بوائز اسکول چھلت اور چھپروٹ اسکول کی عمارات بھی کئی کئی سالوں سے مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔اور اکبر آباد اسکول روڈ کا ٹھیکیدار پیسے ہضم کرنے کے باوجود کام مکمل کئے بغیر عوام اور طلباء و طالبات کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے جبکہ بوائز ہائی اسکول چھلت عمارت بھی کئی سالوں سے مکمل نہیں ہو پا رہا ہے ان تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے ضلع نگر کے عوامی سماجی اور مذہبی حلقوں نے گلگت بلتستان کے تعلیم دوست وزیر اعلیٰ اور سکرٹری تعلیم سے پرزور اپیل کیا ہے ۔ان حلقوں نے اپنے اپیل میں کہا ہے کہ آخر ان کے بچوں کے نام پر ماہانہ کروڑوں کا رقم حکومت خرچ تو کر رہی ہے لیکن چیک اینڈ بیلنس کیوں نہیں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved