گلگت،گندم سبسڈی کا آٹا نئی پیکنگ میں مہنگے داموں بیرونی اضلاع سمگل کرنیکا انکشاف
  12  ستمبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( وقائع نگار خصوصی ) گلگت کے مقامی فلور ملز مالکان اور پراچہ آٹا ڈیلروں کی آپس میں ملی بھگت کے باعث خطے کے گندم سبسڈی کا آٹا پنجاب کے تھیلوں میں پیکنگ کے ذریعے مہنگے داموں دیگر اضلاع کو سمگل کرنے کا اہم انکشاف ، فلور ملوں کا آٹا دیگر اضلاع کو سمگلنگ کے باعث گلگت شہر و دیگر مضافاتی ایریاز میں آٹا بحران کے خطرات لاحق ہو گئے ہیں ، فلور ملوں کا آٹا سمگل کیا جا رہا ہے محکمہ خوراک کو سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہوگا ، ذمہ دار محکمے کے آفیسر نے آٹا ہیرا پھیری کا اعتراف کر لیا ، باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گلگت کے مقامی فلور ملز مالکان اور گلگت شہر کے پراچہ آٹا ڈیلروں کی ملی بھگت کے باعث شہر کی مشہور مارکیٹ میں رات کے اندھیرے میں گلگت بلتستان گندم سبسڈی کا آٹا پنجاب نامی فلور ملز کے تھیلوں میں پیکنگ کرکے اٹھارہ سو روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے

جبکہ مشہور مارکیٹ سے ٹرکوں اور مزدوں کے ذریعے گلگت سے دیگر اضلاع بالخصوص ضلع غذر ، سکردو سمگل کرکے روزانہ لاکھوں منافع کمایا جا رہا ہے ۔ شہر سے آٹا سمگلنگ کے باعث گلگت سمیت دیگر مضافاتی ایریوں میں آٹا بحران کے باعث شہری آٹے کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا کر ذہنی اذیتوں میں مبتلا ہوکر رہ گئے ہیں ، ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں گلگت سے دو ٹرک آٹا جن میں 850آٹا تھیلے شامل تھے جو مقامی فلور مل کا آٹا تھا جنہیں پنجاب فلور ملز کے نام سے جعلی تھیلوں میں پیک کرکے ضلع غذر سمگل کیا جا رہا تھا دونوں ٹرکوں کو شکیوٹ کے چیک پوسٹ سے گرفتار کیا گیا بعد میں لاکھوں مالیت کے آٹے کیس کو بھی غائب کر دیا گیا ۔ محکمانہ ذرائع کے مطابق کئی بار آٹا سمگلروں ، آٹا بلیک میلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیلئے اعلیٰ حکام کو تحریری رپورٹ پیش کر دیا گیا لیکن محکمے کے ذمہ داران نے متعلقہ فلور ملوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے رپورٹ کو بھی دبایا گیا ۔ خطے سے آٹا بحران پر مکمل قابو پانے کیلئے آٹا مافیاز کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہوگا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved