وفاقی حکومت جی بی کی انتظامی حیثیت کے تعین کیلئے سنجیدگی سے کام کررہی ہے، جعفراللہ
  13  ستمبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت ( محمد ذاکر سے ) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی انتظامی حیثیت کے تعین کیلئے سنجیدگی سے کام کررہی ہے ، آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ ہوا ہے اور کشمیری قیادت بھی چاہتی ہے کہ مسئلے کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے بغیر گلگت بلتستان کے عوام کو انکے آئینی حقوق دئیے جائیں ، آل پارٹیز کانفرنس میں جی بی کی نمائندگی کرکے تجوزید دی ہیں بہت جلد مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے بھی آل پارٹیز کانفرنس طلب کیا جائیگا ، انہوں نے اوصاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک گلگت بلتستان کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ، پاک چائنہ اقتصادی راہداری پر گلگت بلتستان حکومت کا وفاق سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ وفاقی حکومت نے سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کو کھربوں کے حساب سے مختص کر دئیے ہیں جبکہ 44ارب مالیت کے جگلوٹ سکردو روڈ کام کیلئے منظور ہو چکے ہیں گلگت بلتستان کیلئے آئندہ کے تین سال اہمیت کے حامل ہیں دیگر کھربوں کے میگا منصوبے بھی مکمل کرکے گلگت بلتستان کا نقشہ بھی تبدیل کر دینگے ،تمام میگا کام مسلم لیگ ن کے حکومت میں مکمل کئے جائینگے ۔ ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ماضی کی کرپٹ حکومتوں نے کرپشن کے ذریعے خطے کے عوام کو بھی نیلام کرکے مالی اداروں کو بھی نیلام کر دیا ، انکے دور حکومت میں ایک کلوٹ بھی تعمیر نہ کیا جا سکا ،

آج خطے میں کھربوں کے ترقیاتی کام جاری ہیں مگر بد قسمتی سیکرپٹ لوگ حکومت پر تنقید کرکے حق حاکمیت اور حق ملکیت کے نام پر خطے کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کرہے ہیں خطے کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ، کسی کو بھی ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بننے کی ہر گز اجازت نہیں دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ گگلت بلتستان ہمارے آباؤ اجداد نے بغیر ہتھیار کے جنگ لڑ کر خطے کو آزاد کراکر الحاق پاکستان کر دیا مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے حصے ہیں جبکہ کشمیر کی آزادی کیلئے گلگت بلتستان کے عوام نے بے مثال قربانیاں دی اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے ، جبکہ بھارتی ظلم و بربریت اور مطلوم کشمیریوں کے حق میں گلگت بلتستان حکومت یوم یکجہتی کشمیر ، بلیک ڈے سمیت دیگر دن منائے جاتے ہیں اور کشمیری بھی خطے کے آئینی حقوق کیلئے آواز بلند کریں ، مسئلہ کشمیر کے حل سمیت گہلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے مسئلے کے حل کے ساتھ پاکستان مزید مضبوط ایٹمی ملک بن جائیگا ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اتنا آسان نہیں جسکے لئے بھارت اور پاکستان کے درمیان تین بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہیں اگر مسئلہ کشمیر کے حل سمیت گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے مسئلے کو حل کیا جانا تھا تو ماضی میں وفاق ، آزاد کشمیر سمیت گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی ، اس وقت دونوں مسئلوں کو حل کیوں نہیں کیا گیا ، آج مسلم لیگ ن کی حکومت تنقید کرنیوالے پہلے اپنے گریبان پر جھانکیں ، پھر مسلم لیگ ن حکومت پر تنقید کریں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved