حکومت جبر ی طور پر عوامی زمینیں ہتھیانا چاہتی ہے، الیاس صدیقی
  13  ستمبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت (اوصاف نیوز)حکومت جبری طور پر گلگت بلتستان کے عوام سے ان کی ملکیتی زمینیں ہتھیانا چاہتی ہیں جس سے یہاں کے عوام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔سٹیٹ سبجیکٹ رول کی معطلی اور ناتوڑرولز کا نفاذ گلگت بلتستان کے عوام کیساتھ امتیازی سلوک ہے ۔تھک داس سمیت مقپون داس،چھلمش داس ،نلتر اور دیگر تمام اضلاع کی زمینیں یہاں کے عوام کی ملکیت ہیں۔تھک داس کے حوالے سے الزام کسی ایک مقامی آفیسر پر ڈالنا قطعاً مناسب نہیں ،شیعہ نشین علاقوں میں زمینوں کو جبری طور پر طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دیگر علاقوں کے عوام سے مذاکرات کئے جاتے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے

کہ حکومت کے دہرے معیارات سے علاقے میں کشیدگی کا امکان روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔گلگت بلتستان کی ایک ایک انچ زمین پر یہاں کے عوام کا حق ہے جو برسوں سے اس خطے میں زندگی گزاررہے ہیں۔سٹیٹ سبجیکٹ رول کی معطلی اور ناتوڑ رول کے اجراء پر عوام کی شدید تحفظات ہیں۔چھلمش داس، نلتر اور مقپون داس میں حکومت نے طاقت کا استعمال کرکے عوام کو اپنی زمینوں سے بیدخل کردیا ہے جبکہ تھک داس میں حکومت عوام سے مذاکرات کررہی ہے ۔حکومت کا یہ دہرا معیار شکوک و شبہات پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے اور شیعہ نشین علاقوں کے عوام حکومت کے اس اقدام کو تعصب پر مبنی اقدام سمجھتے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین تھک داس سمیت تمام زمینوں کو علاقے کے عوام کی ملکیت سمجھتے ہیں عوامی زمینوں پر جبری قبضہ کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے خطے میں ایک ہی قانون کارفرما ہونا چاہئے ،مختلف اضلاع کیلئے الگ الگ قوانین حکومت کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے۔عوام کی ملکیتی زمینوں پر طاقت کے استعمال سے قبضہ کرنے کی کوشش سے پورے خطے کے عوام میں اشتعال پھیلنے کا قوی اندیشہ ہے لہٰذا برسوں سے حق حکمرانی اور حق ملکیت سے محروم گلگت بلتستان کے عوام کو مشتعل کرنے کی بجائے ان کے جائز حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

گلگت بلتستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved