اہم خبریں

نیویارک(ویب ڈیسک)امریکا میں تعینات پاکستانی سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا سفیر ضرور تھا مگر امریکا کے لیے کام کرتا رہا۔امریکی پالیسی ادارے کی تقریب میں حسین حقانی نے پاکستان کے خلاف اور امریکی حمایت میں کام کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے لیے کام کرنے کی وجہ سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہا ہوں۔یاد رہے رواں برس حسین حقانی نے امریکی اخبار کےلیے ایک آرٹیکل تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے ایبٹ آباد کمیشن سمیت ملکی سالمیت اور امریکی ایجنٹس کو ویزے دینے کے حوالے سے جھوٹے الزامات لگائے تھے۔ حسین حقانی کے آرٹیکل کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی اور مختلف سیاسی شخصیات کی طرف سے اس معاملے پر اور امریکی ایجنٹس کو ویزہ جاری کرنے کے حوالے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ حقانی نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے آرٹیکل میں ایسی کوئی چیز تحریر نہیں کی گئی جیسے پاکستان میں شور مچایا جارہا ہے۔




ٹرمپ کا اسرائیل کا دورہ‘محمود عباس کی فلسطینیوں کو فروخت کرنے کی تیاری
  24 مئی‬‮ 2017
مقبوضہ مغربی کنارا (ویب ڈیسک) بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس آج منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی تاریخی اراضی کے 6.5 فی صد حصے سے اسرائیل کے حق میں دست برداری کا اعلان کریں گے۔فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق برطانیہ سے شائع ہونے والی ’مڈل ایسٹ آئی‘ ویب سائیٹ کی رپورٹ میں ذرائع کےحوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر محمود عباس تنازع فلسطین کے حل کے لیے غرب اردن کی چھ اعشاریہ پانچ فی صد اراضی اسرائیل کودینے پر تیار ہیں۔ صدر عباس یہ پیش کش آج منگل کے روز بیت المقدس میں امریکی صدر سے ملاقات میں کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ اعشاریہ پانچ فی صد اراضی ماضی میں صدر عباس کی طرف سے دستبرداری کا تین گنا زیادہ ہے۔ تاہم اس میں بیت المقدس شامل نہیں۔ تنظیم آزادی فلسطین کے ایک مقرب عہدیدار نے بتایا کہ یہ تجویز ماضی میں سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو بھی پیش کی جا چکی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس تنازع فلسطین کے حل کے حوالے سے اپنا نیا لائحہ عمل امریکی صدر کو پیش کریں گے۔ البتہ ان کی تجاویز فلسطینی قوم سے مخفی رکھی جائیں گی تاکہ عوامی حلقوں کی طرف سے اس پر احتجاج نہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق صدر محمود عباس اراضی کے تبادلے کے فارمولے پربھی قائم ہیں۔ماضی میں ہونے والے مذاکرات مین 1.9 فی صد اراضی کی تبادلے کی بات کی جاتی رہی ہے مگر اب محمود عباس نے یک دم اس کا تناسب بڑھا کر ساڑھے چھ فی صد کردیا ہے۔خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس فلسطین اور اسرائیل کے دورے پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ صدر عباس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ دوسری ملاقات ہے۔



لندن(ویب ڈیسک)سری لنکا کے لیجنڈری کرکٹر کمار سنگا کارا نے فرسٹ کلاس کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کمار سنگاکارا نے کہا کہ ’’وہ انگلینڈ میں جاری انگلش کاؤنٹی چیمئپن شپ جو کہ ستمبر میں ختم ہورہی ہے کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ سے ریٹائر ہوجائیں گے۔39 سالہ کرکٹر جنہوں نے 134 ٹیسٹ میچوں میں 11 سنچریوں اور 57 رنز کی اوسط سے اپنا نام ٹیسٹ کھلاڑیوں کی فہرست میں 5 ویں نمبر پر لکھوایا نے اپنے سری کاؤنٹی کے لئے مڈل سسیکس کے خلاف میچوں میں دو سنچریاں سکور کی تھی۔





رمضان المبارک میںدنیا بھر کے مسلمان زیادہ تر وقت کس کام میں مصروف رہتے ہیںِ؟
لاہور(ویب ڈیسک) رمضان وہ مہینہ ہے جس میں فرزندان اسلام اپنے گناہوں کی مغفرت کیلئے کوشش کرتے ہیں اور مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ایک سروے کے مطابق رمضان المبارک کے دوران صارفین تین شعبوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جبکہ علی الصباح تین بجے فیس بُک پر صارفین کی بھرمار ہوتی ہے۔سروے میں کہنا ہے کہرمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں وسط ایشیائی ممالک کے مسلمان اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے رمضان میں اپنے صارفین کے وقت گزارنے سے متعلقاعداد وشمار جاری کیے ہیں، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صارفین رمضان المبارک کے دوران میں 5 کروڑ 76 لاکھ اضافی گھنٹے فیس بُک پر گزارتے ہیں پہلا مرحلہ پہلے مرحلے کے دوران مسلمان رمضان سے قبل ہی کپڑوں کی خریداری کی منصوبہ بندی شروع کردیتے ہیں اور انٹرنیٹ براؤزرز کے بجائے موبائل ایپلی کیشنز پر اپنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں جن لوگوں سے سروے کیا گیا ہے،ا ن میں سے 47 فی صد نے بتایا کہ وہ رمضان سے پہلے مہینے میں کپڑوں کی خریداری کی منصوبہ بندی شروع کردیتے ہیں۔



لاہور(نیوز ڈیسک)واشنگٹن (آئی این پی)امریکا کے سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں یورپ کو مزید دہشت گردانہ حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مانچسٹر حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام اور عراق میں داعش کی شکست کے نتیجے میں یہ جنگجو بین الاقوامی سطح پر اپنے حملوں میں تیزی لے آئیں گے۔ جارج بش اور باراک اوباما کے دور میں وزیر دفاع کے منصب پر فائز رہنے والے گیٹس نے واشنگٹن کانفرنس میں مزید کہا کہ یہ جہادی اپنی حکمت عملی بدلیں گے، جس کے لیے عالمی برادری کو تیار رہنا چاہیے۔واضح رہے کہ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کے ماننے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں جو بھی پیش گوئیاں کی ہیں وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری ہو رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا میں ان کی ایک پیش گوئی پر بحث کی جا رہی ہے جس کے مطابق 2016ء میں یورپ کو بہت بڑے نقصان کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ بابا وانگا کا انتقال 1996ء میں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی وہ 2001ء4 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے، 2004ء میں سونامی، سیاہ فام کے امریکی صدر بننے اور 2010ء4 میں عرب دنیا میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کے سلسلے ’عرببہار‘ کی پیشین گوئی کر چکی تھیں۔ بابا وانگا کے مطابق 2016ء میں براعظم یورپ کے ملکوں کو مسلمان عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا جن کے نتیجے میں یورپ کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔بابا وانگا نے سوویت یونین ٹوٹنے، چرنوبل کے حادثے، سٹالن کی تاریخ وفات اور روسی آبدوز کرسک کی تباہی بھی پیش گوئیاں بھی کیں جو بالکل درست ثابت ہوئیں۔ 1989ء میں بابا وانگا نے کہا تھا کہ امریکی لوگ انتہائی خوف میں مبتلا ہوں گے جب ان پر دو آہنی پرندے حملہ کریں گے اور ہر طرف دہشت کا راج ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی نائن الیون کے بارے میں کی گئی تھی۔



آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

ad

روزانہ کی 12بڑی خبریں حاصل کریں بزریعہ ای میل


تازہ ترین خبریں

کالم /بلاگ

مقبول ترین

دلچسپ و عجیب





     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved