خواتین اہلکاروں کا ایران میں حجاب پہننے کا فیصلہ درست تھا: سویڈن
  17  فروری‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب
تہران(مانیٹرنگ ڈیسک )سویڈن کی حکومت نے ایران کے دورے پر اپنی خواتین اہلکاروں کے حجاب پہننے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایسا نہ کرنا مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی۔گذشتہ ہفتے سویڈن کی وزیرِ تجارت این لِند کی قیادت میں ایک ٹیم نے ایران کا دورہ کیا تھا اور ان کے حجاب پہننے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔سویڈن کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں دنیا کی پہلی فیمنسٹ یعنی حقوقِ نسواں کے لیے مخصوص طور پر کام کرنے والی حکومت ہے۔ایران میں خواتین کے حقوق کے کام کرنے والی ایک معروف کارکن اور سویڈن کی سیاسی شخصیات نے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔سویڈن کی لبرل پارٹی کے چیف یان جورکلند کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فیمنسٹ خارجہ پالیسی کے لیے انتہائی نقصان دے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران قانون سازی کے ذریعے خواتین کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ سویڈن کو چاہیے تھا کہ وہ ایرانی حکومت سے کہتا کہ ان کے وفد کی خواتین اراکین کو حجاب پہننے سے استثنیٰ دی جاتی اور افر اس درخواست کو تسلیم نہ کیا گیا ہوتا تو تجارتی معاہدوں کو سویڈن یا کسی تیسرے ملک میں طے کیے جانا چاہیے تھا۔سویڈین کی وزیرِ تجارت این لِند نے ایک مقامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کو تیار نہیں تھیں اور اس کا واحد متبادل یہ تھا کہ اس وفد میں صرف مردوں کو بھیجا جاتا۔اس موقعے پر سویڈن کے وزیراعظم سیفن لوفن بھی ایران میں موجود تھے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے انسانی حقوق کے معاملے کو ایرانی صدر حسن روحانی سے سامنے اٹھایا تھا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved