ماں اوربیٹے کی داستان غم
  15  مارچ‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب
"مجھے افسوس ہے عامر صاحب، آپکو آج ہی کوئ فیصلہ کرنا ہو گا۔ ساتھ والی مریضہ کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔" ڈاکٹر نے اپنے لہجے میں ہمدردی پیدا کرتے ہوئے کہا۔ فیصلہ؟ وہ کیسے کر سکتا تھا یہ فیصلہ؟ "نہیں، نہیں، یہ میرے بس میں نہیں۔!!!" اس نے سوچا۔ساتھ ہی بچپن کا ایک منظر اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ وہ چار سال کی عمر میں کرسی کے سرے پہ بیٹھا بھاگنے کے چکروں میں ہے اور اسکی ماں نے اسے نرمی سے قابو کر رکھا ہے اور نوالے اسکے منہ میں ڈال رہی ہے۔ "میرا عامر بیٹا جنگل میں جا رہا تھا کہ اچانک ایک شیر آ گیا۔ میرے بہادر عامر نے ڈرنے کی بجائے زور سے آواز نکالی تو شیر خود ڈر کے بھاگ گیا۔" وہ اسے بہلانے کیلیئے ساتھ ساتھ کہانیاں سناتی جاتی اور اسکا منہ کھلتا جاتا۔ پھر زندگی کی فلم کو فاسٹ فارورڈ کر کے اس نے اپنے آپکو دس سال کی عمر میں دیکھا۔ اسکی ماں سردی میں خود ٹھٹھرتی ہوئی اسکے لیئے پانی گرم کر رہی ہے اور اسے نہلا دھلا کر ناشتہ کروا کے سکول بھیج رہی ہے۔ "بیٹا لنچ باکس یاد سے رکھ لینا اور پلیز بریک میں ختم کر کے آنا۔" اسے ہمیشہ یہ فکر رہتی کہ کہیں وہ بھوکا نہ رہ جائے۔ کچھ مذید مناظر تیزی سے گزرے اور اسے اپنا آپ ایک کالج سٹوڈنٹ، ایک خوبرو نوجوان کی شکل میں نظر آیا۔ "بیٹا آج پھر دیر کر دی۔ تمہیں تو پتہ ہے میں کتنی اداس اور پریشان ہو جاتی ہوں۔ فون تو کر دیا کرو۔" رات دیر سے گھر لوٹنے پر اسکی ماں نے غصے کی بجائے بھرپور محبت سے منت کی۔ "امی آپ فکر نہ کیا کریں۔ میں اب بچہ نہیں رہا۔" اس نے جھلا کر کہا۔ "بیٹا تیرا باپ زندہ ہوتا تو شاید میں اتنی فکر نی کرتی۔ پر تیرے سوا میرا ہے ہی کون۔" وہ بےبسی سے بولی۔ اور پھر کالج سے یونیورسٹی، پہلی محبت، ماں سے ضد اور پھر شادی تک کے مناظر چشم زدن میں دماغ کی سکرین پر سے دوڑتے ہوئے گزر گئے۔ "بیٹا میں یہ نہیں کہتی کہ بیوی کو وقت نہ دے پر دو گھڑی اپنی بوڑھی ماں کیلیئے بھی نکال لیا کر۔" وہ بیچارگی سے کہہ رہی تھی۔اور پھر ایک دن وہ باتھ روم میں اچانک گر گئ۔ فوراﹰ ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچے تو پتہ چلا کہ بلڈ پریشر شوٹ کرنے سے فالج ہو گیا ہے۔ اس نے عامر کی دیکھ بھال اور پالنے پوسنے میں اپنی صحت پر توجہ ہی کب دی تھی۔ آدھا دھڑ ناکارہ ہو چکا تھا، اور وہ جو ہر کام بھاگ بھاگ کر کرتی، اب چارپائ سے لگ کر رہ گئ۔ ابتدائ علاج کے بعد ہسپتال میں بستروں کی کمی کے باعث اسے چار دن بعد ہی چھٹی دے دی گئ۔ عامر نے کچھ دن کی رخصت لے لی کہ ماں کی خدمت کر سکے۔ پر ناکافی تنخواہ میں مہنگے علاج کی مجبوری نے اسے چڑچڑا کر دیا تھا۔ ماں کو اپنے ہاتھ سے کھلاتا پلاتا پر جب وہ دو نوالے کھا کر منہ ہٹا لیتی تو وہ بھی غصے میں اسے چھوڑ دیتا۔ کیا پتہ اسے اپنی ایک آدھ کہانی سنا دیتا تو اس میں مگن ہو کر کھا ہی لیتی۔!!! غسل خانے سہارا دے کر لیجانا پڑتا۔ وہ ٹھنڈے پانی کی شکایت کرتی تو منہ بنا کر کہہ دیتا کہ اماں گیس نہیں آ رہی، تھوڑا برداشت کر لے۔!!!کبھی مصروف ہوتا تو گھنٹوں ماں کا خیال ہی نہ آتا کہ اسکو دوا اور کھانا مل گیا کہ نہیں۔ ماسی نے کھلا دیا تو ٹھیک ورنہ اللہ اللہ خیر صلا۔!!! پھر ایک دن ماں اچانک بے ہوش ہو گئ۔ ایمبولینس میں ڈال کر پھر ہسپتال پہنچے۔ ڈاکٹر دیکھتے ساتھ ہی الگ کمرے میں لے گئے۔ پوری ٹیم اکٹھی ہو گئ۔ مصنوعی سانس اور دوائیں دے کر دل کی دھڑکن کو بحال کر کے بوڑھی ماں کو وینٹیلیٹر پہ ڈال دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ فشار خون دوبارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا اور دماغ کی شریان پھٹ جانے سے یہ حالت ہوئ۔ "بس آپ دعا کریں۔" یہ کہہ کر ڈاکٹر تو چلا گیا پر عامر کو ایک لامتناہی کرب میں چھوڑ گیا۔ وہ دیوانوں کی طرح ماں کو بلاتا، اس سے معافی مانگتا رہا، پر اسکے پر سکون چہرے پر کوئ جنبش نہ ہوئ۔ وہ روزانہ آتا، بے سدھ پڑی ماں سے باتیں کرتا اور اس کے چہرے پر تاثرات کو ایسے ڈھونڈتا جیسے بادلوں میں لوگ مختلف شکلیں ڈھونڈتے ہیں۔!!! اگلے دن دو سینیئر ڈاکٹروں نے اسکی ماں کا معائینہ کیا اور عامر کو اپنے کمرے میں لے گئے اور اسے بتایا، "ہمیں شدید افسوس ہے کہ آپکی والدہ ذہنی طور پہ فوت ہو چکی ہیں اور طبی نکتہ نگاہ سے اب انکی واپسی کا کوئ امکان نہیں۔""نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔" اس نے بے یقینی کے عالم میں کہا۔"انکے دل دواؤں سے اور سانس وینٹیلیٹر سے مصنوعی طور پہ چل رہے ہیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم یہ لائف سپورٹ منقطع کر دینگے کیونکہ طبی بورڈ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ انکے ہوش میں آنے کا اب کوئ امکان نہیں۔" ڈاکٹر نے اپنی وضاحت جاری رکھی۔ "ساتھ والے بیڈ پہ جو مریضہ ہیں وہ ایک جوان خاتون ہیں۔ انہیں سانس کے پٹھوں کا فالج ہوا ہے۔ اگر انہیں وینٹیلیٹر مل جائے تو انکی زندگی بچ سکتی ہے۔ پر فی الحال ہمارے پاس دوسرا کوئ وینٹیلیٹر دستیاب نہیں۔" پھر اسے گم سم پا کر بولا، "چلیں آپ کل تک سوچ کے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں۔"اسکی تو گویا دنیا ہی اندھیر ہو گئ تھی۔ وہ کیسے اپنی ماں کی زندگی کے خاتمے کے فیصلے پر اپنے ہاتھ سے دستخط کر دیتا۔ وہ ہاتھ جنہیں لکھنا ہی اس عظیم عورت نے سکھایا تھا۔!!! آج جب ڈاکٹر نے اسے یاد دہانی کروائ تو وہ سوچوں کے گہرے سلسلے میں کہیں کھو گیا۔"میں اپنی ماں کا گلا اپنے ہاتھ سے کیسے دبا دوں۔ اسکی خدمت تو کر نہیں سکا، اسے 'قتل' کیسے کر دوں؟!!!" ابھی وہ اسی شش و پنج میں تھا کہ آئ سی یو میں ایمرجنسی الارم کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ سب ڈاکٹر اور نرسز ایک بیڈ کی طرف بھاگتے نظر آئے۔ اس نے دیکھا وہ اسکی ماں کا ہی بستر تھا۔ کوئ وینٹیلیٹر کی سیٹنگ کر رہا تھا تو کوئ ٹیکہ لگا رہا تھا تو ایک سٹیتھوسکوپ سے دل کی دھڑکن چیک کر رہا تھا۔ پر عامر کی نظر دل کا ردھم بتانے والے مانیٹر پر جمی تھی۔ اس عالم میں بھی مامتا سے بیٹے کی بے چینی برداشت نہ ہوئ اور وہ اسے اس کربناک فیصلے کی اذیت سے آزاد کرتی ہوئ خود ہی مانیٹر کی الجھی لکیروں کو سیدھا کر کے خاموشی سے چلتی بنی۔!!

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved