ایسے 9کام جو آپ کے لیے باعث خوشی بن سکتے ہیں
  20  مارچ‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)صحت کی حفاظت اور زندگی کے دباؤ سے بچنے کے لیے انسان کا خوش رہنا ضروری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ خوشی حاصل کیسے کی جائے؟۔ خوشی کے حصول کے لیے آپ دن کا کا کچھ حصہ ضرور مختص کریں تاکہ آپ کو حقیقی معنوں میں خوشی اور مسرت کا احساس ہو سکے۔ موسیقی سنیں، معمول کے مطابق ورزش کریں، تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں۔ ہرنئے دن کا آغاز آپ کسی اچھی عادت سے کریں۔ وہ اچھی عادت عارضی نہیں بلکہ آپ کی زندگی کا مستقل حصہ بن جائے۔ مزید خوشی کے حصول کے لیے درج ذیل پند ونصائح پر عمل درآمد کریں۔ دلائی لاما کا کہنا ہے کہ خوشی ایسی چیز نہیں جسے بنایا جاسکے، یہ ہمارے افعال سے پھوٹتی ہے۔ مگر ایسے کون کون سے افعال و اعمال ہیں جو ہمیں مسرت پہنچا سکتے ہیں؟ پھر یہ کہ خوشی ہے کیا۔ اس کا شعور واحسا کیوں اہم ہے۔ اس طرح خوشی اور مسرت کی کوئی جامع تعریف ممکن نہیں۔ مختلف اشخاص اور اشیاء میں خوشی کا الگ الگ احساس ہوسکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ خوشی اور مسرت کے50 فی صد احساسات ہمارے جین میں ہوتے ہیں۔40 فی صد ہماری سرگرمیوں سے پیدا ہوتے ہیں اور 10 فی صد کا تعلق ہماری روز مرہ زندگی سے ہوتا ہے۔ سائنسی مطالعوں سے پتا چلتا ہے کہ طویل عمر پانے والے افراد زیادہ مسرت پاتے ہیں۔ دو ماہرین نفسیات سٹبٹو اور اورڈل نے سنہ 2011ء میں ایک تحقیق شروع کی۔ اس تحقیق کے دوران انہوں نے طویل عمر کے حامل افراد کو یہ کہتے پایا کہ وہ زیادہ خوش رہتے ہیں۔ درج ذیل امور خوشی کا احساس پیدا کرتے ہیں خوشی دباؤ پر غالب ہے اسٹبٹو اور واردل کی تیار کردہ تحقیق میں تین سالہ تجربے میں انہوں نے بتایا کہ خوشی انسان کے نفسیاتی دباؤ پر غالب آتی ہے۔ ایسے افراد جن میں الکروٹیزل ہارمون کی مقدار زیادہ پائی جائے وہ اپنے دباؤ اور ڈی پریشن پر با آسانی قابو پا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا تناسب کم خوش رہنے والے 23 فی صد سے کم ہے۔ خوشی سے ہم زیادہ تعمیری بن سکتے ہیں سنہ2014ء میں پروفیسر اوزوالڈ اور ان کی معاون ٹیم نے ’خوشی اور اس کے نتائج واثرات‘ کے عنوان سے ایک تحقیق کی۔ اس رپورٹ کے نتائج میں بتایا گیا کہ جو افراد زیادہ خوش رہتے ہیں وہ زیادہ تعمیری ہوتے ہیں۔ کم خوش رہنے والوں کی نسبت ایسے افراد11 فی صد زیادہ ’پروڈکٹیو’ ہوتے ہیں۔ درج ذیل نو امور خوشی کا موجب بن سکتے ہیں۔ پھل اور سبزیاں کھائیں برطانیہ کی وارویک یونیورسٹی کے زیراہتمام کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ سبزیاں اور پھل کھانے سے آپ کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ کی خوشی اور مسرت کے احساس میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے مشورہ یہ ہے کہ آپ پھلوں اور سبزیوں کو آٹھ حصوں میں استعمال کریں اور انہیں اپنی روز مرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔ کھانا ہلکا اور کم کھائیں۔ خشک چیزون کے بجائے تازہ اشیاء اور جوس کا زیادہ استعمال کریں۔ سوشل میڈیا پر کم وقت صرف کریں سائنسی تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا انسانی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایک ہفتے تک ’فیس بک‘ ترک کرنے والے افراد میں خوشی اور مسرت کے زیادہ احساسات پائے گئے ہیں۔ سوشل میڈیاکے حوالے سے مشورہ ہے کہ کم سے کم 30 دن تک فیس بک کو طلاق دے دیں۔ اس کے نتیجے میں آپ اپنے دوست احباب سے دور ہوں گے۔ اتنا عرصہ گذرنے کے بعد آپ زیادہ محبت کے ساتھ ان سے روابط بڑھائیں گے۔ پیدل چلنے کی عادت ڈالیں سنہ 2014ء میں ایسٹ انجلینا یونیورسٹی کے زیراہتمام کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ پیدل چلنے والے افراد اپنے دفتری اور گھریلو کاموں کے علاوہ دیگر سرگرمیوں کو سوار افراد کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پیدل چل کر دفتروں میں آنے والے افراد میں ڈی پریشن کا احساس کم ہوتا ہے۔ اگر آپ کو اپنے دفتر تک پہنچنے کے لیے کسی ٹرین یا آٹو بس کا استعمال کرنا ہوتو اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے پیدل چلیں۔ گاڑی سے اترنے کے بعد بھی دفتر تک پیدل چلیں۔ نرم ونازک اور خوبصورت جانوروں کی تصاویر دیکھیں خوشی کے حصول کا ایک ذریعہ نرم ونازک اور خوبصورت جانوروں کی تصاویر دیکھنا بھی بتایا جاتا ہے۔ سنہ 2012ء میں جاپان کی ہیرو شیما یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کیوٹ جانداروں کی تصاویر دیکھنے سے خوشی کے احساسات وجذبات میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ کے کام کاج پر توجہ بہتر ہوتی ہے۔ ویب پورٹل Buzzfeed.com کا مشورہ ہے کہ اپنے موبائل فون کو ایک طرف رکھیں،کچھ دیر لطیف موضوعات اور اشیاء کا مشاہدہ کریں اور اس کے بعد باقاعدگی سے اپنے کام کاج کا آغاز کریں۔ بستر پرایک گھنٹہ اضافی گذاریں ’بی بی سی میگزین‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک گھنٹہ زیادہ بستر پر لیٹنا اور سونا بھی خوشی کے جذبات میں اضافہ کرتا ہے۔ ایک ہفتے تک آپ بستر پر ایک گھٹنہ زیادہ گذاریں، پانی سمیت کسی بھی قسم کے مشروبات سے گریز کریں۔ سونے سے قبل کیفین یا اس قسم کی کسی دوسری چیز کا استعمال نہ کریں۔ چھٹی کا پلان بنائیں سنہ 2010ء میں ہالینڈ کی روٹر ڈیم یونیورسٹی کے زیراہتمام کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چھٹی کا پلان بنانے سے بھی جسم میں خوشی اور مسرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ تعطیلات کا شیڈول آٹھ ہفتوں تک بڑھانا زیادہ مناسب ہے۔ چھٹی گذارنے ان مقامات پر جائیں جہاں جانے کے لیے آپ کا دل چاہتا ہے۔ پرجوش معانقہ کا تبادلہ سائنسی تحقیقات سےثابت ہوتا ہے کہ پرجوش معانقہ کرنے سے محبت کے جذبات میں اضافہ ہوتا ہے۔ معانقے سے ’اوکسیٹوسین‘ ہارمون پائے جاتے ہیں۔ زیادہ خوش رہنے کے لیے دن میں کم سے کم 8 بار دوستوں سے ضرور گلے ملیں خوشی میں پڑوسی کو شریک کریں ہاروڈ یونیورسٹی کے زیراہتمام’خوشی صرف انفراد احساس نہیں بلکہ اجتماعی احساس ہے’ کے عنوان سے تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خوشی کے حصول کے آس پاس کے لوگوں کو خوش رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ کے پڑوس میں صاحب مسرت افراد موجود ہیں تو وہ آپ کی خوشی میں 9 فی صد اضافہ کرسکتے ہیں۔ اجتماعی خوشی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ آپ دوستوں کے ساتھ مل کر تقریبات کا انعقاد کریں۔ ان محافل میں ماضی کی اچھی یادیں تازہ کریں۔ اپنی پسند کی موسیقی سنیں کینیڈا کی جامعہ مکیگل میں کی گئی تحقیق سائنسی جریدے’سائنس ڈیلی‘ میں شائع ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ پسند کی موسیقی سننے ے بھی ’ڈوبامین‘ نامی ہارمون کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہارمون ہے جو دماغ میں خوشی کا شعور اجاگر کرتا ہے۔ روزانہ کم سے کم پانچ منٹ اپنی پسندی کی موسیقی سنیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved