سوشل میڈیا پر لڑکیوں کو ہراساں کرنا اب ناممکن ہو گا ؟؟ بڑے خبر آگئی
  20  اپریل‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب
ڈھاکہ (روز نامہ اوصاف) بنگلہ دیش میں لڑکیوں کو آن لائن پریشان اور ہراساں کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اب سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے ایک آگاہی پروگرام شروع کیا گیا ہے لیکن کیا یہ پروگرام لڑکیوں کے تحفظ کے سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکے گا؟بنگلہ دیش میں سمارٹ فون کا استعمال بڑھنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو جنسی طور پر پریشان کرنے کے واقعات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں نوعمر لڑکیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تریسٹھ ملین سے زیادہ ہے، جن میں سے زیادہ تر صارفین شہری علاقوں میں ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر نذرالاسلام نے بتایا:’’ہمیں آن لائن ہراساں کیے جانے کی روزانہ دس سے لے کر بارہ تک شکایات موصول ہوتی ہیں۔ نوّے فیصد متاثرین کم سن یا نوعمر لڑکیاں ہوتی ہیں۔پولیس نے اس حوالے سے مختلف طرح کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ کئی ایک کیسز میں لڑکیوں کو بہلا پھُسلا کر اُن سے جنسی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج منگوا لی جاتی ہے۔ ان چیزوں کو بعد ازاں ان لڑکیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نذرالاسلام کے مطابق کچھ کیسز میں نوجوان جوڑوں کی خفیہ کیمروں کے ذریعے قابل اعتراض حالت میں ویڈیو بنا لی جاتی ہے، جسے بعد ازاں آن لائن پوسٹ کر دیا جاتا ہے:’’ان تصاویر اور ویڈیوز کو بوائے فرینڈ بھی اپنی گرل فرینڈ یا اُس کے گھر والوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘‘اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکام نے ایک پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت دَس ہزار سے زیادہ نو عمر لڑکیوں کو آگاہ کیا جائے گا کہ کیسے وہ آن لائن زیادتی کا نشانہ بننے سے بچ سکتی ہیں۔ڈھاکا میں مقیم انسانی حقوق کی ایک خاتون کارکن شگفتہ شرمین نے بتایا:’’اچانک ہی اتنے زیادہ لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ہو گئی ہے۔ ان لوگوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ پہلے کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس حکومتی پروگرام سے اُنہیں ضرور فائدہ ہو گا۔‘‘ اس پروگرام کے دوران ان لڑکیوں کو بتایا جائے گا کہ اُنہیں اپنی ذاتی معلومات کسی کے ساتھ بھی آن لائن شیئر نہیں کرنی چاہییں اور اجنبی لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرنے چاہیں۔بنگلہ دیش میں سن 2013ء میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی، جو اب تک چار سو پچاس سے زیادہ کیسز سن چکی ہے۔’ویمن چیپٹر‘ نامی آن لائن میگزین کی ایڈیٹر سُپریتی ڈار کے مطابق حکام کو چاہیے کہ وہ نوجوان لڑکوں کو بھی یہ تربیت دیں کہ اُنہیں سوشل میڈیا پر کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ محض اسی صورت میں اس رجحان کو روکا جا سکے گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved