کالج میں شادی شدہ زندگی پر ایک ورکشاپ ہو رہی تھی
  16  مئی‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

کالج میںخوشحال ازدواجی زندگی کے حوالے سے ایک ورکشاپ ہورہی تھی جس میں شادی شدہ جوڑوں نے حصہ لیا ، تقریب میں گپ شپ اورلطیفہ گوئی چل رہی تھی کہ اسی وقت ایک پروفیسر صاحب کی انٹری ہوئی سٹیج پر پہنچتے ہی انہوںنے ارد گرد نظردوڑائی تو سبھی لوگ لطیفوں اورخوش گپیوں میں مصروف ہنس رہےتے ۔یہ دیکھ کر پروفیسر نے کہا کہ چلو پہلے ایک گیم کھیل لیتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے موضوع پر باتیں کریں گے۔سب خوش ہو گئےاور کہا کونسی گیم ہے ؟پروفیسر نے ایک شادی شدہ لڑکی کو کھڑا کیااور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پر ایسےتیس لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں۔لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور ساتھیوں کے نام لکھ دیئےاب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے 5نام مٹانے کیلئے کہا ۔۔لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیئے۔پروفیسر نے اور 5نام مٹانے کے لیے کہا۔۔لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيو ںکے نام مٹا دیئے ۔۔اب پروفیسر نے اور 10نام مٹانے کے لیے کہا۔لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیئے۔۔اب بورڈ پر صرف 4 نام باقی رہ گئے تھے جو اس کے ممي‘ پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھے۔اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2نام مٹا دولڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے ماں باپ کا نام مٹا دیا۔۔۔تمام لوگ حیران رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا۔۔اب صرف 2ہی نام باقی تھے شوہر اور بیٹے کا‘‘پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دولڑکی اب سہمی سی رہ گئی بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا۔۔۔پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ اور سب کی طرف غور سے دیکھا اور پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا؟ کوئی جواب نہیں دے پایا ۔۔۔ تمام لوگر منہ لٹکا کر بیٹھے تھے۔۔۔پروفیسر نے پھر اس لڑکی کو کھڑا کیا اور کہاایسا کیوں؟ جس نے تمہیں جنم دیا اور پال پوس کر جوان کیا پھر تمہاری شادی کروا دی ان کا نام بھی تم نے مٹا دیا اور تو اور تم نے اپنی کوکھ سے جس بچے کو جنم دیا اس کا بھی نام تم نے مٹا دیا؟لڑکی نے جواب دیا کہ اب ممي‘ پاپا بوڑھے ہو چکے ہیں، چند سال کے بعد وہ مجھے اور اس دنیا کو چھوڑ کے چلے جائیں گے۔۔۔۔ میرا بیٹا جب بڑا ہو جائے گا تو ضروری نہیں کہ وہ شادی کے بعد میرے ساتھ ہی رہےگالیکن میرے شوہر جب تک میری جان میں جان ہے تب تک میرا نصف جسم بن کے میرا ساتھ نبھائینگے اس لئے میرے لئے سب سے عزیز میرے شوہر ہیں۔۔پروفیسر اور باقی اسٹوڈنٹ نے تالیوں کی گونج سے لڑکی کو سلامی دی۔۔۔۔پروفیسر نے کہاتم نے بالکل صحیح کہا کہ آپ اور سب کے بغیر رہ سکتی ہوپر اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔مذاق مستی تک تو ٹھیک ہےپر ہر انسان کا اپنی زندگی کے ساتھی ہی اس کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔۔۔یہ لفظی سچ ہے.


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
83%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
17%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved