بن بیاہی ماؤں کےلیے موت کا جزیرہ
  16  مئی‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب
یوگنڈا(ویب ڈیسک)افریقی ملک یوگنڈا میں ایک زمانے میں اگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے ہی حاملہ ہو جائے تو اسے خاندان کی بے عزتی تصور کیا جاتا تھا اور اسے مرنے کے لیے ایک چھوٹےجزیرے سے میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔بی بی سی کے پشنس اتھوہیر نے ایک ایسی خاتون مودا کیتاارگابروے سے ملاقات کی جسے اس کے بھائی جزیرے پر مرنے کے لیے چھوڑ گیا تھا لیکن شادی کے متمنی ایک ملاح نے اسے بچا لیا تھا۔مودا کیتا ارگابروے بتاتی ہیں: ’جب میں بارہ برس کی تھی تو میرے خاندان کو پتہ چلا کہ میں حاملہ ہو چکی ہوں۔ انھوں نے مجھے کشتی میں ڈال کر اکمپنی (سزا جزیرے) پر چھوڑ دیا۔ میں نے وہاں چار راتیں وہاں بغیر پانی اور خوراک کے گذاریں اور مجھے لگا کہ میرے موت واقع ہو جائے گی۔ پانچویں روز ایک ملاح آیا تو اس نے مجھے کہا کہ تم میرے ساتھ میرے گھر چلو۔ مجھے لگا کہ وہ مجھے دھوکہ دے کر کشتی میں بٹھا لےگا اور پھر گہرے پانیوں میں پھینک دے گا۔ جب میں ہچکچائی تو اس نے مجھے صاف صاف بتا دیا کہ وہ مجھے اپنی بیوی بنانے کے لیے بچا رہا ہے۔‘مودا کیتاارگابروے اب اس جزیرے سے جہاں سے اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا وہاں کشتی کے صرف دس منٹ کے سفر پر رہتی ہیں۔مودا کیتاارگابروے کا اندازہ ہے کہ اس کی عمر اسی برس کے قریب ہے لیکن ان کے پوتے کا خیال ہے کہ ان کی عمر 106 برس ہے۔یوگنڈا کی باکیگا معاشرے میں جوان عورت سے امید کی جاتی ہے کہ وہ شادی کے بعد ہی حاملہ ہو۔ اس سے اس کے خاندان کو اچھی قیمت ملتی تھی جو مال مویشیوں کی شکل میں ادا کی جاتی تھی۔انیسویں صدی میں یوگنڈا پر انگریز راج کے باوجود یہ رواج جاری رہا۔ یوگنڈا میں پرانے زمانے میں عورتیں تیرنا نہیں جانتی تھیں اور اگر عورت اس جزیرے پر چھوڑ دی جائے تو اس کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ پانی میں چھلانگ لگا کر ڈوب جائے یا پھر بھوک پیاس سے مرنے کے لیے تیار رہے۔لیکن اس جزیرے پر ساری عورتیں مرتی نہیں تھیں۔ کچھ نوجوان جن کے پاس بیوی خریدنے کے لیے رقم نہیں ہوتی تھی وہ اس جزیرے کا چکر لگاتے رہتے تھے اور اگر انھیں کوئی عورت مل جائے تو اسے بچا کر اسے شادی کر لیتے تھے۔مودا کیتاارگابروے کے اس بچے کا کیا بنا جو اس کی کوکھ میں تھا جب اسے موت جزیرے پر چھوڑا گیا۔ مودا کیتاارگابروے اس سوال کا واضح جواب نہیں دیتیں لیکن اس کی باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا حمل گرا دیا گیا تھا۔وہ اس شخص کے بارے میں بتاتی ہیں جس نے اسے موت جزیرے بچایا تھا۔ ‘وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں نے تمھیں بچایا اور تمھیں کوئی دکھ نہیں دوں گا۔ ہمارے ہاں چھ بچے پیدا ہوئے۔‘مودا کیتاارگابروے کہتی ہیں کہ جب اس نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تو اس نے اپنے خاندان کو اور خاص طور اس بھائی کو بھی معاف کر دیا ہے جس نے اسے مرنے کے لیے اس جزیرے پر چھوڑ دیا تھا۔۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
22%
ٹھیک ہے
22%
کوئی رائے نہیں
44%
پسند ںہیں آئی
11%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved