نوازشریف اوراس کے حواریوںنےمیرا ضمیر خریدنے کی کوشش کی ،سنیءر وفاقی افسر
  11  اگست‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

میری یہ تحریر آپ تک پہنچے سے قبل میرا استعفیٰ میرے اعلی افسران کی ٹیبل تک پہنچ چکا ہو گا۔ میں گریڈ 18کا ایک ذمہ دار سی ایس پی آفیسر ہوں اور گزشتہ 14 سال سے ایک وفاقی ادارے میں ڈویژنل سطح پر اپنی خدمات اس ملک کےلیے انجام دے رہا ہوں۔ میں نے مشرف کے مارشل لاء میں جمہوریت کی بحالی کےلیے ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے مظاہرے بھی کیے، میں نے ڈی چوک میں دھرنے کے دوران عمران خان کو ذاتی حیثیت میں خط بھی لکھا کہ شہریوں کی آمدورفت اور سرکاری ملازمین کے آنے جانے کی سہولت کا خیال رکھیں اور ان کےلیے مناسب راستے کا بندوبست کروائیں۔ چھوٹی موٹی غلطیاں سب سے ہوتی ہیں مگر میں حلفاََ اقرار کرتا ہوں کہ اپنے 14 سالہ کیریئر میں میں نے ایک بھی غیر آئینی کام نہیں کیا اس کے باوجود مجھے ذلت کے ساتھ میرے محکمے سے رخصت کیا جا رہا ہے۔

میرا قصور بس اتنا سا ہے کہ نواز شریف کے جلسے کےلیے تعاون کا حکم ملنے پر میں نے اس ملک کا شہری ہونے کا فرض ادا کیا اور اپنے سینیئر افسر کو آئین کی پاسداری کا حوالہ دیتے ہوئے آئین کی متعقلہ شق بھی بتا دی۔ 07 اگست 2017 کو مجھے محکمے کی طرف سے ٹیلیفون کال پر مطالبہ کیا گیا کہ میں نواز شریف کے قافلے کےلیے لوگوں کا بندوبست کروں اور اپنے محکمے کے ماتحت عملے کو مجبور کروں کہ وہ نواز شریف کے جلسے میں بطورِ مظاہرین شرکت کریں۔ جواب میں میں نے درخواست کی کہ جناب یہ حکم مجھے تحریری طور پر بھی مل جائے تو میرے لیے آسانی ہو گی، جس کے جواب میں مجھے بےوقوف بدھو کہہ دیا گیا۔ اپنے ضمیر کی آواز دبا کر میں نے اپنے ماتحت سرکاری ملازمین کو یہی حکم زبانی طور پر دے دیا۔یہ میرے 14 سالہ کیرئر میں پہلا غیر آئینی کام تھا کہ سپریم کورٹ سے سزا یافتہ شخص کے مفاد کےلیے میں نے مجبور ہو کر اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا کیوں کہ مجھ پر اوپر سے دباؤ تھا۔ ضمیر کی ملامت پر میری ساری رات جاگتے گزری۔ میرے ضبط کا بندھن تب ٹوٹا جب آج مجھے نواز شریف کا جلسہ کامیاب کروانے کےلیے اگلا غیر آئینی حکم آف دا ریکارڈ ملا۔ مجھے کہا گیا کہ شہر میں بھیک مانگنے والی خواتین اور مردوں کو پیسے دے کر نواز شریف کے جلسے میں پہنچانے کا بندوبست کروں۔ اس کے علاوہ راولپنڈی سے لاہور جی ٹی روڈ کے اردگرد جتنی بھی جھگیوں والی اور کچی بستیاں ہیں ان کے خواتین و حضرات کو کچھ مخصوص بینرز دے کر نواز شریف کے جلسے میں پہچانا ہے۔ جواب میں میں کچھ کہے بغیر اپنے سینیئر موسٹ افسر کے سامنے سے اٹھ گیا۔ باہر آ کر آفس میں دیکھا تو بینرز بھی موجود تھے. بینرز کھول کر دیکھے تو یہ نواز شریف کےلیے جان دینے کی قسمیں کھانے اور حمایت سے متعلق تھے۔ یعنی غریب مساکین لوگوں کو پیسے دے کر نواز شریف کےلیے نعرے لگوانے گریڈ 18 کے افسر کی زمہ داری تھی۔ وہ افسر جو تنخواہ پاکستان سے لیتا ہے نواز شریف سے نہیں۔ بینرز کی چھپائی کا معیار اور پینا فلیکس کوالٹی دیکھ کر مجھے شک ہوا۔ میں نے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان میں موجود اپنے ایک واقف کو فون کر کے پوچھا تو پتہ لگا کہ چھپائی کا سارا کام قومی خزانے سے کیا جا رہا ہے اور کچھ وفاقی منسٹرز پیسے اپنے پاس سے بھی دے رہے ہیں۔ وفاقی منسٹرز کے محکموں میں موجود اپنے دوستوں سے پتہ کیا تو پتہ لگا کہ یہ پیسے منسٹرز اپنی جیب سے نہیں دے رہے ہیں۔ بلکہ محکمے کے بجٹ سے لے کر دے رہے ہیں اور یہ پیسہ کاغذوں میں ایسے ظاہر کیا جائے گا کہ محکمے کےلیے خرچ کیا ہوا۔ کرپشن پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے کہ میں استعفی کا فیصلہ کرتا۔ لیکن سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ایک مجرم کےلیے سرکاری محکموں اور قومی خزانے کا یوں بے دریغ استمال میری برداشت توڑ گیا۔ میں نے خاموشی سے استعفی تحریر کیا لیکن یہ سوچا کہ صرف میرے استعفی دینے سے کیا ہو گااگر میں یوں خاموشی سے چلا گیا؟ میں سامنے آ کر ضرور بیان دیتا مگر نیب کا ایک سینیئر افسر کامران فیصل حکمرانوں کے خلاف تحقیق کرنے پر میری آنکھوں کے سامنے مرا ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں جو مجھے ملک سے زیادہ پیارے تو نہیں ہیں لیکن پھر بھی انہیں حکمرانوں کے وجہ سے یتیم نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہا ہوں۔ میں نے اپنے استعفی میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی کیوں کہ مجھے پتہ ہے کہ حکومت کبھی بھی آئین اور قانون کو نہیں دیکھتی بکہ اپنی مخالفت میں کھڑے ہونے والے سرکاری ملازموں کو عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔ میں نے استعفی میں ذاتی وجوہات کی بنا پر ملازمت چھوڑنے کا کہا۔ مگر میں حقائق سے آپ کو آگاہ کر رہا ہوں اس لیے کہ میرا مقدمہ عوام کی عدالت میں جائے۔ اگر پاکستان کی عوام اس ملک اور اس کے آئین کےلیے مرا مقدمہ سوشل میڈیا پر کامیابی سے لڑ سکی میرے ساتھ اور اس ملک کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ بات کر سکی تو میں سامنے بھی ضرور آؤں گا۔ فقطایک کم تر درجے کا پاکستانیجسے آئین کی بات کرنے پراستعفی دینا پڑا۔نوٹ: یہ تحریر ان باکس میں ایک زندہ ضمیر اور غیرت مند پاکستانی کی طرف سے موصول ہوئی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
85%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
15%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved