جب ایم ایم عالم بھوک سےنڈھال ہوگئے!
  6  ستمبر‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

ائیر کموڈر ایم ایم عالم کو 1965 کی جنگ میں بہادری پر دو بار ستارہ جرات سے نوازا گیا ۔ اس دور میں آپ پاکستان ائیر فورس میں ایک سکواڈرن لیڈر تھے۔ جب بھارتی فضائی افواج نے پاکستان کے سرگودھا ائیر بیس پر حملہ کیا تو ایم ایم عالم نے 5 اے ایف ہنٹر فائٹرز کو دو منٹ میں مار گرایا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد انہوں نے چار آئی اے ایف مسٹئیر فائٹرز کو مار گرایا۔ نو بھارتی طیارے مار کر وہ پاکستانی فضائی فوج کے لیے ایک آئی کان کی حیثیت اختیار کر گئے۔ ایک دن پہلے انہوں نے انڈیا کے ہلوارا ائیر بیس پر ایک بڑے حملے کی قیادت کی تھی لیکن تب بہت سے بھارتی طیاروں نے ایم ایم عالم کا راستہ روک لیا تھا۔ ایک ہنٹر کو نیست و انابود کرنے کے بعد انہوں نے اپنے سیبر جیٹ کے استعمال کو ترجیح دی۔ بھارتی علاقے میں داخل ہونے کے بعد انہوں سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کو خبردار کیا جو کہ ہلوارا ائیر بیس پر حملہ کرنے والے تھے کہ وہ ہلوارا ائیر بیس کی طرف سے آنے والے بھارتی طیاروں پر نظر رکھیں۔ کم حوصلہ نوجوان ضرور اپنے ارادے کو بدل دیتا لیکن سرفراز رفیقی جیسا جانباز مرد ہمت نہ ہارتے ہوئے آگے ہی بڑھتا گیا۔ کئی بھارتی ہنٹر طیاروں نے تین پاکستانی طیاروں کا راستہ روک لیا ۔ اسی یک طرفہ حملے میں رفیقی کے طیارے کی بندوقیں جام ہو گئیں ۔ انہوں نے سیسل چوہدری کو کمان سنبھالنے کا کہا لیکن واپس نہیں گئے۔ انکا خراب طیارہ ایف 86 بھارتی ہنٹر طیاروں کے ہاتھوں تباہ ہو گیا۔ اس دن پاکستان نے اپناسب سے بہادر پائلٹ کھو دیا۔ ان کی یاد میں پاکستان کا شورکوٹ ائیر بیس کا نام رفیقی ائیر بیس رکھ دیا گیا۔ سیسل چوہدری نے ایک بھارتی ہنٹر کو گرا کر لڑائی کا خاتمہ کر دیا۔

اسی دوران ایم ایم عالم ائیر کموڈر کے رینک پر ترقی کر گئے۔ وہ بہت بہادر اور باکردار شخص تھے ۔ اڑنا ان کا شوق اور پاکستان ائیر فورس کا حصہ بننا ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ وہ ہمیشہ معیار کی اعلی ترین سطح پر یقین رکھتے تھے انہیں ائیر چیف مارشل انور شمیم کی قیادت میں معیار کی کمی نظر آئی۔انہوں نے سوچا کہ ائیر چیف کو ان افواہوں کے بارے میں بتایا جائے جو پاکستان ائیر فورس کے ناقص حکمت عملی کے بارے میں گرد ش میں تھیں۔ عالمکے مشورہ اور تنقید پر ائیر چیف سیخ پا ہو گئے ۔ ایم ایم عالم کو پاکستان ائیر فورس کی گرتی ہوئی ساکھ پر تشویش ہوئی تو انہوں نے اس بارے میں صدرضیاالحق سے گفتگو کی۔ شمیم ضیا الحق کے کافی قریبی تھے اس لیے ایم ایم عالم کی شکایت کا کوئی اثر نہ ہوا۔یہ ایک اچھی چیز نہیں تھی۔ ائیر چیف مارشل شمیم نے ائیر مارشل ایم ایم عالم کی جبری ریٹائرمنٹ کا حکم صادر کر دیا۔وائس چیف آف ائیر سٹاف کےطور پر میرے لیے یہ ایک بری خبر تھی کیونکہ پاکستان ائیر فورس ایک سب سے اہم اور پر جوش پائلٹ سے محروم ہو گیا تھا۔ عالم کو بڑا دکھ ہوا اور انہوں نے پینشن لینے سے انکار کر دیا۔ جمال احمد خان جو کہ شمیم کے بعد ائیر چیف مارشل بنے نے بہت کوشش کی کہ ایم ایم عالم کو پینشن لینے پر راضی کر لیا جائے جو کہ ان کو قانونی اور آئینی حق تھا۔ لیکن وہ بھی ناکام رہے۔ ایم ایم عالم منظر عام سے غائب ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد خبر چلی کہ انہوں نے افغانستان مجاہدین کے ساتھ شامل ہو کر سوویت یونین کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد میری اسلام آباد والے گھر کے دروازے پرآدھی رات کو دستک ہوئی اور میں نے ایک بوڑھے بڑھی ہوئی داڑھی والے شخص کو دیکھا۔ وہ بہت بھوکا تھا اور اس نے پشتون کیپ پہن رکھی تھی۔ میں نے انہیں تب تک نہیں پہچانا جب تک انہوں نے اندر آنے کی اجازت نہیں مانگ لی۔ میں نے پوچھا کہ عالم تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے؟انہوں نے کہا میں بھوک سے مر رہاہوں ۔ دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ جس طریقے سے وہ کھا رہے تھے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔ وہ بہت تھکے ہوئے تھے اور تین دن تک سوئے رہے ۔ پھر وہ چلے گئے اور میرا ان سے کوئی رابطہ نہ رہا۔ ایک ماہر فائیٹر پائلٹ ہونے کے علاوہ وہ ایک اچھے اور مذہبی انسان تھے۔ اللہ ان پر رحم کرے اور انہیں جنت میں جگہ دے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved