اسلامی کا سب سے پہلا مینار؛ کب، کہاں اور کس نے بنوایا؟
  8  ستمبر‬‮  2017     |     دلچسپ و عجیب

الریاض( ویب ڈیسک) سعودی عرب کی سرکاری ویب سائٹ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ پر مریم الجابر کی ایک تحقیقی تحریر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی تاریخ کا پہلا مینار خلیفہ دوم سیدنا فاروق اعظم (رضی اللہ عنہ) کے حکم پر آج سے 1400 سال قبل حالیہ الجوف کے علاقے دومۃ الجندل میں تعمیر کیا گیا جو آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔یہ مینار حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے بیت المقدس کے سفر پر روانہ ہوتے وقت تعمیر کروایا تھا جبکہ یہ اسلام کی اولین یادگاروں کے ساتھ ساتھ اس دور کے عرب فن تعمیر کا نادر نمونہ بھی ہے۔مربع شکل کی بنیاد والے اس پتھریلے اور مخروطی مینار کی چوڑائی 9 مربع میٹر ہے جبکہ اس کا ہر ضلع تین میٹر لمبا ہے۔

اس کی بلندی 13 میٹر ہے جبکہ مینار اور اس سے متصل مسجد دومۃ الجندل کی تعمیر میں ’’الجندل‘‘ نامی پتھر استعمال کیے گئے ہیں جو قدرتی طور نہایت سخت ہوتے ہیں۔ مینار مجموعی طور پر پانچ سطحوں پر مشتمل ہے۔ طویل وقت گزرنے کے بعد اس مینار کے اندرونی پتھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہیں اس لیے آج اس مینار کے اندر سے اوپر چڑھنا مشکل ہے۔سعودی ماہر آثار قدیمہ اور الجوف میں قومی ورثہ و سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل احمد بن عتیق القعید نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ 1404ھجری (1983 عیسوی) سے مسجد دومۃ الجندل اور اس سے ملحقہ مینار کو سعودی عرب کے قومی ورثے میں شامل کرلیا گیا ہے جس کے بعد سے مسجد کی صفائی اور مرمت کا کام زیادہ بہتر طریقے سے کیا جارہا ہے۔ اس مسجد میں آج بھی نماز ادا کی جاتی ہے۔بتاتے چلیں کہ مسجد دومۃ الجندل کا شمار سعودی عرب کی قدیم ترین مساجد میں بھی ہوتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

دلچسپ و عجیب

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved