سپریم کورٹ نے تعلیمی پیکج کے خاتمے کیخلاف اپیل سماعت منظور کر لی
  10  جنوری‬‮  2017     |      کشمیر
مظفرآباد(آئی این پی) تعلیمی پیکج کے خاتمے کیخلاف سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی اپیل سماعت کیلئے منظورکر لی ۔ فریقین سے 15ایام کے اندر تبصرہ طلب ۔طلبہ کی طرف سے ا پیل منظور کرلی گئی ہے۔ سابق وزیرخزانہ چوہدری لطیف اکبر نے ‘ مبارک حیدر‘شوکت جاوید میر‘ عارف مغل ‘قلب عباس ‘ سردار پرویز ایوب ‘عدنان اعوا ن اور اشتیاق کے ہمراہ مرکز ی ایوان صحافت میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت‘ ہائیرایجوکیشن اور سیکرٹری ایجوکیشن نے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طورپر متعد کالجز کو بند کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی اس حوالے سے توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ عدالت العالیہ نے تعلیمی پیکج کے حوالے سے حکومت کو ہدایت دی تھی کی تین ماہ کے اندر دیکھا جائے کہ جو ادارہ بند کرنا ہے۔ لیکن حکومت نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تمام کالجز کو بند کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی نے ہمیشہ اداروں کی مضبوطی کیلئے کام کیا ۔ ہم نے 4سو کے قریب سکولوں اور کالجز کو اپ گریڈ کیا ۔ انہیں مضبوط کرنے کیلئے اضافی اسامیاں بھی رکھی تھیں۔موجودہ حکومت اداروں کو بنانے کی بجائے ادارے تباہ کررہی ہے۔ اگر کسی ادارے میں کوئی کمی بیش ہو تو اس کو دور کیا جانا چاہیے۔حکومت نے تعلیمی پیکج ہی کو ختم کردیا۔میڈیکل کالج اور یونیورسٹی پر کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ حکومت نے سوا سو پولیس ملازمین فارغ کئے۔ ٹیوٹا کے 228ملازمین سے روزگار چھینا گیا جو سراپا احتجاج ہیں۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہے۔ عوام سڑکوں پر احتجا ج کررہے ہیں۔حکومت نے سوائے بیروزگاری کے کچھ نہیں دیا ۔چوہدری لطیف اکبر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے حالیہ دورہ کے بعد حکومت کی جانب سے بلند و بانگ دعوے کئے گئے ۔ اشتہار دئیے گئے حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔ وفاقی پی ایم سیکرٹریٹ سے کوئی پریس ریلیزجاری نہیں کی گئی ۔وزیراعظم فاروق حیدر کے مطالبات کاوزیراعظم میاں محمدنواز شریف نے مثبت جواب نہیں دیا۔ انہوں نے نئی آئینی کمیٹی بارے سوال کے جواب میں کہا کہ آئینی کمیٹی پہلے سے موجود تھی وفاقی حکومت کو صرف نوٹی فائی کرنا تھا ۔ نئی کمیٹی کے کسی رکن کا نام تک سامنے نہیں آیا ۔ یہ سب ہوائی باتیں ہیں۔انہوں نے مالیاتی بحران پر کہا کہ آزاد حکومت صرف 4ارب روپے او ڈی لی سکتی ہے۔ 22ارب خسارے کا رونا بے بنیا د ہے۔پی پی حکومت نے بجٹ سے اضافی ایک ارب روپے خزانے میں چھوڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جاہل لوگ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہیں ان کو بجٹ کی الف ب بھی پتہ نہیں ہے۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ حکومت سے اور تو کچھ نہ بن پڑا پی پی دور کے شروع کردہ منصوبہ جات کو ہی بند کردیا۔ حکومتیں تو روزگاردیتی ہیں موجودہ حکومت اس کے برعکس کام کررہی ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو پی پی کا دوبارہ چئیرمین بننے پر مبارکباد پیش کی۔ آصف زرداری ‘ نیئربخاری ‘ فرحت اللہ بابر‘ مولا بخش چاندیو کو بھی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کیلئے جدوجہد میں چیئرمین کیساتھ ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 

رپورٹر   :  



  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved