کٹھ پتلی حکومت نے آزادی پسند قیادت کو نظربند کرکے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے، گیلانی
  19  مارچ‬‮  2017     |      کشمیر

سرینگر (روزنامہ اوصاف) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک کو سینٹرل جیل سرینگرمنتقل کرنے اور میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین اور محمد اشرف لایا کو ا ن کے گھروں میں مسلسل نظربند رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ آزادی پسندرہنماؤں کو نظربند کرنا ثابت کرتا ہے کہ نام نہاد ضمنی انتخابات ماضی کی طرح ایک فوجی آپریشن ہیں جن کی کوئی اعتباریت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فریق کو نظر بند کرکے دوسرے کی جیت کا اعلان کرنا مضحکہ خیز ہے اور حقیقی جمہوری عمل میں ایسا کبھی نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن بائیکاٹ کی کال کسی خاص جماعت یا فرد کے لیے نہیں بلکہ ہمارے نزدیک تمام بھارت نواز جماعتیں ایک جیسی ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس وہی کارڈ کھیلنا چاہتی ہے جو پہلے پی ڈی کھیلتی رہی ہے لیکن دونوں کی سیاست صرف کرسی کے لیے ہے جس کوحاصل کرنے کے لیے یہ کبھی اٹانومی، کبھی سیلف رول اور کبھی آزادی تک کے نعرے دیتی ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے معاملہ فہمی اور سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 1975ء میں رائے شماری کو دفن کرنے کے بعد نیشنل کانفرنس ایک عرصے تک سبز رومال اور پاکستانی نمک دکھا کر لوگوں کو دھوکہ دیتی رہی اور اقتدار کے مزے لوٹتی رہی اور آگے چل کر پی ڈی پی نے اپنے جھنڈے پر قلم دوات اور سبز رنگ چڑھا کر اسی حربے سے اپنے کو متعارف کرایا اور اقتدار حاصل کرلیا۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ آج یہ لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی کی مسلم دشمنی اور ان کے خطرناک منصوبوں کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں جبکہ ماضی میں یہ لوگ بھی پی ڈی پی کی طرح ان کے ساتھ اقتدار میں شریک ر ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے گزشتہ کئی انتخابات میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس کوآزادی پسندوں کی حمایت حاصل ہے اور یہ اقتدار سے زیادہ کشمیری قوم کے مفادات کو ترجیح دیتی ہے لیکن بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کے بعد ان کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے اور ان کی اصلیت بے نقاب ہوگئی ہے۔ حریت چےئرمین نے کہا کہ یہی حال عوامی اتحاد پارٹی، پیپلز کانفرنس، کانگریس اور تمام بھار ت نوازجماعتوں کا ہے اور ان کو کرسی کے سوا کسی چیز سے مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ جماعتیں بھارت کے جبری قبضے کو سندِ جواز عطا کرتی ہیں لہٰذا یہ کشمیر المیے اور مظلوم کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے انتخابی ڈرامے کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نواز جماعتیں اچھے نظم ونسق اور تعمیر وترقی کے نام پر ووٹ مانگتی ہیں لیکن بھارت اس کو بین الاقوامی فورموں پر اپنے فوجی قبضے کے لیے ایک دلیل کے طور پر استعمال کررہا ہے اور عالمی برادری کو گمراہ کررہاہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ 70سال سے رائے شماری کے مطالبے کے لیے عظیم اور بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں اور آج تک 6لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات رائے شماری کا نعم البدل نہیں ہوسکتے اور جب تک کشمیری قوم کو اپنے مستقبل کاتعین کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا وہ ہر قیمت پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی صورت میں بھارت کے جبری قبضے کو تسلیم نہیں کریں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
17%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
17%
رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved