انسانی زندگی بہت قیمتی ہے اس کے بچاؤ کیلئے بروقت احتیاط اور ضروری تدبیر اختیار کرنا ہونگی، مسعود الرحمن
  17  اپریل‬‮  2017     |      کشمیر

میرپور(آئی این پی) امراض قلب کے بچاؤ کیلئے سرگرم عمل پاکستان نیشنل ہارٹس ایسوسی ایشن (پناہ) کے صدر جنرل (ر) ڈاکٹر مسعود الرحمن کیانی نے کہا ہے کہ انسانی زندگی بہت قیمتی ہے اس کے بچاؤ کیلئے بروقت احتیاط اور ضروری تدبیر اختیار کرنا ہونگی دل کے دورہ سے بچاؤ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 80ہزار افراد یعنی ہر سات سے آٹھ منٹ بعد دل کے مختلف امراض کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں اس انسانی نقصان کی بڑی وجہ شعور و آگہی کا فقدان ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ضلع میرپور کے ممتاز معالج ڈاکٹر خانزادہ عبدالحمید میاں کی یاد میں گورنمنٹ گرلز کالج چیچیاں میں منعقدہ ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کا اہتمام چیئرمین میاں محمدبخش سوسائٹی بابو محمد صدیق چوہدری نے کیا تھا ۔ جنرل (ر) ڈاکٹر عاشور خان ، ڈاکٹر اے کیو خان اعوان ، علامہ زبیر احمدنقشبندی ، بابو محمد صدیق چوہدری ، کے ڈی چوہدری ، جمیل احمد جمیل ، ڈاکٹر شہناز حمید میاں اور قاری مروت حسین نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر پناہ کے دیگر ڈاکٹر بریگیڈئیر (ر) سلیم خان ، ڈاکٹر اشرف خان ، ڈاکٹر طاہر شریف ، ممتاز صحافی سید محمد سبطین کاظمی کے علاوہ سابق کونسلروں سرکاری ملازمین اور معززین شہر کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ جنرل (ر) ڈاکٹر مسعود الرحمن کیانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ 50فیصد مریضوں کو پہلی بار ہارٹ اٹیک سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جبکہ 30فیصد قریبی ہسپتال پہنچنے سے پہلے اور 10سے 12دل کے مریض ہسپتال میں پہنچ کر اس دنیا سے ناطہ توڑ دیتے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ لوگوں کو امراض بارے آگاہی نہ ہونا ہے تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں جن کی عمریں 40سے 50سال کے درمیان ہیں دل کے عارضے میں مبتلا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے معاشی و معاشرتی مسائل معاشرے میں جنم لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہارٹ اٹیک اور دیگر دل کی بیماریوں پر قابو پانے کیلئے کچھ عوامل پر عمل کر لیاجائے تو نتائج مختلف آسکتے ہیں ۔ اگر ہم سہل پسند زندگی کو ترک کرتے ہوئے ضروری اور متوازن غذا کا استعمال ، جسمانی ورزش ، سگریٹ نوشی اور ذہنی سکون سے کام لیں توہارٹ اٹیک سے بچا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر جنرل (ر) عاشور خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر کسی خاندان میں دل کی بیماری موروثی ہے تو اس خاندان کے افراد کو چاہیے کہ وہ بیس سال کی عمر کے بعد اپنے میڈیکل ٹیسٹ کروانا شروع کر دیں جبکہ دل کی بیماری کی علامات جس میں چھاتی میں مسلسل درد ، بازو کے اندر والی سائیڈ میں درد ، متلی آنا ، ٹھنڈے پسینے آنا ، چکر آنا ، کمزوری ہونا شامل ہیں شوگر کے مرض کے شکار مریضوں کو بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر شہناز حمید میاں نے کہا کہ پناہ 1984ء میں قائم کی گئی تھی اس کے ممبران بلا معاوضہ اور بغیر کسی لالچ کے تنظیم کیلئے کام کر رہے ہیں اور اپنی جیب سے تنظیم کو فنڈنگ کرتے ہیں۔بابو محمد صدیق چوہدری اور کے ڈی چوہدری نے پناہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے لوگوں کو امراض قلب و دیگر بیماریوں کے بچاؤ کیلئے شعور و آگہی کی جو مہم شروع کی ہے اس کے بہت مثبت اور مفید نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ علامہ زبیر احمدنقشبندی نے قرآن و سنت کی روشنی میں دکھی انسانی کی خدمت کو شریعت محمدی کا اولین فرض قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم حضور ؐ کی سنت پر عمل کریں تو بہت سی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہوسکتا ہے اس سے قبل افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر پلندری چوہدری امجد اقبال نے فیتہ کاٹ کر باقاعدہ کیمپ کا افتتاح کیا اور صدر بار چوہدری شبیر شریف ایڈووکیٹ ، کے ڈی چوہدری ، کرامت علی بجاڑ اور ڈپٹی کمشنر پلندری نے موقع پر موجود مریضوں و عوام علاقہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پناہ کے زیر اہتمام سالانہ کیمپ کے انعقاد سے دکھی اور غریب لوگوں کو علاج معالجہ کی مفت سہولتیں ملتی ہیں اس تسلسل کو جاری رکھاجائے ۔چوہدری امجد اقبال نے پناہ کے ڈاکٹروں اور راولپنڈی اسلام آبادسے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ پناہ کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ میں امراض قلب ، امراض چشم ، مختلف دردوں کے امراض اور دیگربیماریوں کا شکار سینکڑوں لوگوں نے ڈاکٹروں سے اپنا معائینہ اور ٹیسٹ کروائے اور انہیں کیمپ کی جانب سے مفت ادویات فراہم کی گئیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
رپورٹر   :  


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved