مظفر آباد، مردم شماری ، آزادکشمیر میں درجنوں لاپتہ افراد اپنے عزیزوں سے مِل گئے
  17  اپریل‬‮  2017     |      کشمیر

مظفرآباد (آن لائن) آزادکشمیر میں مردم شماری کے باعث درجنوں لاپتہ افراد اپنے عزیزوں سے مِل گئے جبکہ غیرقانونی طور پر مقیم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے 7سال قبل ذہنی طور پر معذور ضلع نوشہر و فروز کا رہائشی روشن 7سال بعد اپنے ورثاء سے مِل گیا ، دردِ دل ، رحم دِل ، ایس ایچ او نے انسانی ہمدردی کے تحت اپنے گھر میں پناہ دی حوالدار محمد اشرف کی محنت ، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ، ڈی ایس پی سٹی وحید گیلانی کی کاوشیں ، اسسٹنٹ کمشنر عاصم اعوان کی جانب سے مردم شماری ٹیم کو مبارکباد اسپیشل ایوارڈ دینے کا اعلان ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 7سا ل قبل ضلع نوشہرو فروز کے رہائشی روشن گزشتہ7سال قبل مختلف مقامات پر سفر کرتے ہوئے مظفرآباد کے نواحی علاقے ڈنہ میں پہنچ گیا جہاں پر لوگوں نے روشن کو دیکھ کر گفتگو کرنے کی کوشش کی جبکہ روشن سندھی زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتا تھا جِس پر عوامِ حلقہ نے دہشتگرد قرار دے کر تھانہ ڈنہ میں دے دیا جبکہ اُس وقت کے ایس ایچ او راجہ سہیل خان نے اِس کو جانچ پڑتال کے بعد اپنے گھر میں چھوڑ دیا جہاں پر روشن دِن بھر اپنی مرضی سے گائیں ،بھینسوں کے ساتھ چلا جاتا تھا اور گھاس کٹائی بھی اپنی مرضی سے کرتا تھا جبکہ گزشتہ 7سال قبل راجہ سہیل نے ذہنی طور پر مفلوج روشن جو کہ میڈیکل ٹیسٹ کے بعد عرصہ دراز سے ذہنی طور پر بیمار ہے جِس میں ڈاکٹر کے مطابق بلاوجہ بڑ،بڑانا ، بے خفی میں گفتگو کرنے کے علاوہ بغیر کسی مقصد کے سفر کرنا بھی شامل ہے جبکہ مردم شماری کے وقت حوالدار اشرف اپنی ٹیم کے ہمراہ جب راجہ سہیل کے گھر مردم شماری پر پہنچا تو وہاں پر تمام آدمیوں کے کوائف لینے کے بعد جب روشن سے بات کی گئی تو روشن کے پاس پرانا شناختی کار ڈ موجود تھا وہ سوائے سندھی زبان کے کوئی دوسری زبان نہیں جانتا تھا حوالدار اشرف نے اُس کے ساتھ سندھی میں بات کی جِس پر اُس نے اپنے گاؤں کا نام لیا اور محمد اشرف نے نہایت ہی ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوشہروفروز رابطہ کیا جہاں روشن کے بہنوئی جو کہ بھمبر پاک فوج میں حوالدار تھے اُن کے ساتھ رابطہ کیا جِس پر حوالدار خادم نے ڈنہ میں آکر راجہ سہیل خان کے گھر پہنچ کر روشن کوپہچان لیا جِس پر انسپکٹر جنرل پولیس بشیر میمن نے ذاتی دلچسپی کیونکہ آئی جی آزادکشمیر بھی ضلع نوشہرو فروز سے واقفیت رکھتے تھے اور سب سے بڑی بات کہ آئی جی خود سندھی ہیں انھوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹرجنرل سردار گلفراز خان کو ہدایت جاری کی جِس پر ڈی ایس پی سٹی وحید گیلانی نے روشن کو اپنی طویل میں لے کر عدالت سے باقاعدہ سپرداری کرواکر ورثاء کے حوالے کئے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر عاصم خالد اعوان کے رو برو پیش ہوکر روشن نے کہا کہ ڈنہ میرا گھر ہے اور میرے ساتھ کسی نے ظلم وزیادتی نہیں کی اور نہ ہی کسی نے تشدد کیا ہے جبکہ روشن کے سندھی زبان سے اردو میں ترجمانی کے لئے دو نمائندے اسسٹنٹ کمشنر آفس میں موجود تھے جبکہ ایک روشن کا بہنوئی خادم حسین جبکہ دوسرا آصف شاہ نے ترجمانی کی جِس پر عاصم خالد اعوان نے کہا کہ مردم شماری کے وقت حوالدار اشرف نے اپنی ایماندداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 7سال سے بچھڑے روشن کو اپنے ورثاء سے ملوا دیا ، یاد رہے کہ روشن کی دو جوان بچیاں ’’شکیلہ اور حسینہ ‘‘جبکہ اُس کی والدہ ’’نوراں‘‘ کا رو رو کر برا حال ہوگیا جبکہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق روشن ذہنی طور پر مریض ہے اور یہ عرصہ 25سے30سال پرانا مرض ہے اِس میں مریض بلاوجہ بڑبڑانا اور چلنے کی عادت شامل ہے اور ایسے مریض کا اِس وقت علاج کیا جائے تو وہ ٹھیک ہوسکتے ہیں بلاآخر ڈ ی ایس پی سٹی وحید گیلانی نے روشن کو اُس کے بہنوئی خادم حسین کے حوالے کردیا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
رپورٹر   :  




آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved