ریاست جموں وکشمیر میں رائے شماری ناگزیرہوچکی ہے ، میاں محمد شفیق
  12  اگست‬‮  2017     |      کشمیر

میرپور (آئی این پی)جموں کشمیر محاذ رائے شماری کے سیکرٹری جنرل میاں محمد شفیق نے کہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں رائے شماری ناگزیرہوچکی ہے۔ رائے شماری کے لئے پٹیشن تیارکی ہے تاکہ ہم اقوام متحدہ کا دروازنہ کھٹکھٹاسکیں کیونکہ ریاست جموں وکشمیر کی مجموعی صورتحال رائے شماری کا تقاضا کررہی ہے وہ محاذ کے مرکزی دفتر ہال روڈ میں میرپور سٹی کی طرف سے محمد عظیم دت ایڈووکیٹ کے دفتر میں دیئے گئے ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ تقریب کی صدارت میرپور سٹی کے صدر شبیر احمد جنجوعہ نے کی جبکہ محمد عظیم دت ایڈووکیٹ ، گل نواز احمد ، عابد رشید اور علی حیدر چوہدری نے بھی خطاب کیا۔ میاں شفیق نے کہا کہ ہماری دستخطی مہم بعد میں بھی جاری رہے گی۔ہم ریاست کے ہر فرد کو دعوت فکر دیں گے چھبیس ہزار دستخطی مہم کی پہلی قسط جاری کی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ جموں وکشمیر کے عوام سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرنے کے لئے حرکت میں آئے گا انہوں نے کہا کہ دستخطی مہم میں عظیم دت نے ساتھیوں سمیت کلیدی کردار ادار کیا ہے وطن سے محبت اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ جنرل اسمبلی میں بھی وہ اپنا کردار ادا کرنے جارہے ہیں۔ ہرکشمیری اُن کی کامیابی کے لئے دعا گوہے۔ شفیق نے کہا کہ آزادکشمیر کے طول و عرض سے دستخط جمع کیے گئے۔ اس مہم میں ریاست بھر کی نمائندگی کو شامل کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے اس سے مکمل اتفاق کیا ہے۔ ہم اپنی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ اپنے اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔ جنرل اسمبلی سے ضرور صدائے بازگشت رائے شماری کی سنائی دے گی۔ ہم محاذ کے پلیٹ فارم سے اس عہد کا اظہار کرتے ہیں کہ وطن کی مکمل آزادی تک آخری سانس تک لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام کو تحریک آزادی کو مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینا ہوگا۔ اس کے سوا اب کوئی راستہ نہیں بچا۔ ریاست کے اندر بسنے والے قوم پرستوں کو اب حقیقت جان لینی چاہئے کہ کوئی اور ان کی قومی آزادی کے لئے دلچسپی نہیں رکھتا۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک کو جب بھی عروج ملا خطے میں افراتفریح نے جنم لے لیا اور کشمیریوں کی آواز کو دبا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر اقوام متحدہ کی زیر نگرانی میں ہے تاکہ ریاست کے اندر آزادانہ طور پر رائے شماری کے لئے راہ ہموار ہو۔ ریاست کے اندر بسنے والے تمام کشمیری تہذیب و تمدن اور مذہب سے بالا تر ہوکر اپنی وحدت کی بات کرتے ہیں

تو انہون نے محمد عظیم دت ایڈووکیٹ کو تحریک آزادی کشمیر کے لئے نمایاں کردار ادا کرنے پر زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے امریکہ کے دورہ کی کامیابی کے لئے دعائیں کیں۔تقریب میں محمد اسماعیل فیضان ،راجہ خالد حسین ، قاضی اشتیاق احمد، محمد منشاء ، محمد مالک ، طارق محمود جنجوعہ ، میاں محمد عثمان دیگر مقامی رہنما ؤں نے بھی شرکت کی۔محمد عظیم دت نے خطاب کرتے ہوئے کہایو این او کو مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے فریقین کی رضامندی درکا نہیں ہے۔ کیونکہ عدالت میں جب کوئی کیس لے کر جاتا ہے تو دوسرے فریق کو طلب کرکے شہادت کے بعد یا اقبال کے بعد فیصلہ جاری کیا جاتا ہے۔ جب فیصلہ ہوجاتا ہے تو فریقین کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔ پھر صرف فیصلہ پر عملدرآمد کرایا جاتا ہے۔ یو این نے فیصلہ کردیا ہے اب فریقین کی رضامندی کی ضرورت نہ ہے بلکہ فیصلہ پر عملدرآمد کرانا چاہئے۔ انہو ں نے کہا ریاست کے دونوں طرف کے کشمیری دونوں ممالک کی ایجنسیوں کی کلیئرنس کے بعد سفری دستاویز حاصل کرسکتے ہیں۔ سیز فائر کے آنے جانے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ یواین او ہندوستان اور پاکستان کی افواج کو اپنی سرحدوں پر بھیجے۔ بصورت دیگر کشمیریوں کو یو این او اپنا پاسپورٹ جاری کرے تاکہ ستر سالوں سے بچھڑے کشمیر ی آپس میں مل سکیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved