مظفرآباد،ایک ارب 16کروڑ کی لاگت سے وزیراعظم کمیونٹی انفرسٹریکچر پروگرام میں 40کروڑ سے زائد کرپشن کا نوٹس لینے کا فیصلہ
  13  ستمبر‬‮  2017     |      کشمیر

مظفرآباد(آئی این پی)1ارب 16کروڑ کی لاگت سے شروع ہونے والے وزیراعظم کمیونٹی انفرسٹریکچر پروگرام میں 40کروڑ سے زائد کرپشن کی اطلاعات پر حکومت کا سخت ایکشن لینے کا فیصلہ۔لیگی ممبران اسمبلی اور کارکنوں کے علاوہ مسلم کانفرنس کے کچھ کارکنوں نے پروگرام انچارج اور لوکل گورنمنٹ کے اعلیٰ آفیسران سے ملکر ناقص پائپوں کی سپلائی اور تعمیر شدہ منصوبوں پر سکیموں کی منظوری سے چالیس کروڑ سے زائد کی کرپشن کی۔پروگرام شروع کرنے کیلئے 28سے زائد ڈیپارٹمنٹ کے فنڈز سے ایک ارب سولہ کروڑ کا کٹ لگایا گیا۔یہ پروگرام ایک ایسے مرحلے میں شروع کیا گیا تھا جب مظفرآباد کے مالیاتی بحران کو حل کرنے کیلئے اسلام آباد نے خاطر خواہ توجہ نہ دی۔وزیراعظم آزاد کشمیر پر اسمبلی ممبران وزراء اور کارکنوں کا شدید دباؤ تھا بھاری بجٹ کے اس پروگرام کا انچارج ایک ایسے آفیسر کو بنایا گیا جو محکمہ لوکل گورنمنٹ کا مستقل ملازم نہیں تھا۔پروگرام کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ انتہائی شفاف ہو گا۔مانیٹرنگ کیلئے ای سسٹم متعارف کروایا گیا۔لاکھوں روپے کے موبائل خریدے گئے۔واٹس اپ گروپ کو بنا کر تعمیراتی منصوبوں کی پراگرس کو دیکھایا جاتا رہا۔اسی دوران بدعنوان عناصر حرکت میں آئے۔پہلے مرحلے میں پائپ ہاء کی خریداری لوکل گورنمنٹ کے آفیسران کے ذمہ لگائی گئی۔دس روپے فی فٹ پائپ سولہ روپے میں خریدا گیا۔سرفراز نامی ایک ٹھیکیدار نے پیلی کون کمپنی کے ذریعے ایک کروڑ کے قریب بل وصول کیے۔حالانکہ یہ کمپنی ان چار کمپنیوں میں شامل نہیں تھی جن کے لوکل گورنمنٹ سے معاہدے ہوئے تھے۔مبینہ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے حلقے میں ناقص پائپ مستند اور منظور شدہ جعلی مہر کے ساتھ سپلائی کرنے کی اطلاعات سامنے آئی۔لوکل گورنمنٹ کے اعلیٰ آفیسران نے من پسند افراد کو تعمیر شدہ منصوبوں پر سکیموں کے

نام معمولی ردوبدل کے ساتھ تبدیل کر کے منصوبے دیئے۔کئی درجن منصوبے زمین پر نہیں لگئے۔ناقص پائپ کی سپلائی اور اس میں کمیشن کی اطلاعات پر معاملہ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی میں بھی زیر بحث آیا۔بعض وزراء اور اسمبلی ممبران نے لوکل گورنمنٹ کے ذمہ دارآفیسران کی طرف سے اعتماد میں نہ لینے اور من مانی کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق ایک ارب سولہ کروڑ کے منصوبہ میں چالیس کروڑ کی کرپشن پر وزیراعظم کی گڈگورننس کے دعویٰ پر انگیاں اٹھنے اور شدید عوامی ردعمل کے خلاف خاموشی اور ذمہ دار آفیسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اسمبلی ممبران میں تخلیاں بھی ہوئیں۔دعوؤں کے برعکس مذکورہ پروگرام میں اپوزیشن کے شور وزیراعظم کا نام استعمال کر کے ایڈوائنس وصولیوں اور بدوں کام ادائیگیوں کی وجہ سے جب وزیراعظم فاروق حیدر کی نیک نامی پر اثر پڑا تو ان کے کچن کیبنٹ کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے جس کے بعد وزیراعظم آزاد کشمیر نے وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹریکچر پروگرام میں ہونے والی کرپشن پر سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved