نیلم ،سپریم فیصلہ حکومت آزاد کشمیر نے ماننے میں لیت و لعل سے کام لینے لگی
  13  ستمبر‬‮  2017     |      کشمیر

نیلم (حیات اعوان ) سپریم کورٹ آف آزاد جموں وکشمیر کا سپریم فیصلہ حکومت آزاد کشمیر نے ماننے میں لیت و لعل سے کام لینے لگی ایجوکیشن پیکج کی بحالی پر عمل درآمد نہ کیا جاسکا۔طلباء اور سٹاف شدیداضطراب میں مبتلاء سیکشن آفیسرکالجز کی طرف سے بحالی کا نوٹیفکیشن عدالت عظمیٰ میں جمع کروانے کے باجود پیکج کے تحت چلنے والے کالجز کے طلباء وسٹاف کو حاضری کا تحریری یا زبانی حکم جاری نہ کیا جاسکا، حکومت آزاد کشمیر ریاست کے وسیع تر مفاد میں دیا جانے والا ایجوکیشن پیکج ختم کرنے پر بضد ، رپورٹ کے مطابق ایجوکیشن پیکج کے اخراجات 65کروڑ سالانہ ہیں جبکہ ایجوکیشن پیکج کے لیئے لگائے جانے والے ٹیکسز کی سالانہ آمدن 70کروڑ روپے ہے ،جسکی تفصیل سیکرٹری تعلیم عدالت عظمیٰ میں جمع کروا چکے ہیں ،پیکج پر دوران بحث خود حکومتی وکیل بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ پیکیج سے قومی خزانے کو نقصان نہیں فائدہ ہے،عدالت عظمیٰ نے ایجوکیشن پیکج پر دو مرتبہ تفصیلی فیصلہ سنایا ،لیکن با اثر حکومتی شخصیات محکمہ تعلیم کی انتظامیہ پر پیکج بحال نہ رکھنے کا دباؤ بڑھا رہی ہیں ،ایجوکیشن پیکج کی بحالی نہ ہونے سے اداروں میں تعینات سٖٹاف گھر بیٹھے تنخواہیں بٹورنے لگا جبکہ طلباء درپدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں،آزاد کشمیر کے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں نیلم ویلی، فاروڈ کہوٹہ، لیپہ، سماہنی، نکیال ، میں ایجوکیشن پیکج ختم ہونے سے طلباء کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا ، ان علاقہ جات سے گریڈ17کی اسامیاں منتقل ہو جائیں گی جبکہ پیکج کی بحالی سے ان علاقوں کے طلباء و طالبات جدید،اور معیاری تعلیم سے استفادہ حاصل کریں گے ۔حکومت آزاد کشمیر ایجوکیشن پیکج پر دوہرا معیار اپنانا چاہتی ہے آزاد کشمیر میں ایجوکیشن پیکج کے بانی سابق وزیر تعلیم سکولز آزاد کشمیر میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ ، سابق وزیر تعلیم کالجز مطلوب انقلابی ، سابق وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبرنے ایجوکیشن پیکج کی بنیاد این ٹی ایس پر رکھی تھی ادارے اور اسامیاں اپ گریڈ ، آزاد کشمیر میں جملہ سرکاری محکمہ جات اور مختلف اشیاء پر ایجوکیشن ٹیکس لگا کر ایجوکیشن پیکج پر اٹھنے والے اخراجات ریاستی سطع پر پورے کیئے تھے لیکن موجودہ حکومت اسامیاں برقرار، ٹیکسز برقرار، این ٹی ایس برقرار جبکہ صرف ادارے ختم کرنا چاہتی ہے عدالت عظمیٰ آزادکشمیر نے ایجوکیشن پیکج کی مکمل بحالی کا پہلی بار فیصلہ سنایا جسے حکومت نے ماننے کے بجائے فیصلہ کی خلاف ورزی کی جس پر اپوزیشن جماعت نے حکومت اور سیکرٹریز حکومت کیخلاف توہین عدالت کا ریفرنس دائر کیا گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے پہلا فیصلہ نہ ماننے پر

سیکرٹریز ایجوکیشن کے خلاف توہین عدالت کا فیصلہ سنایا اور تین تین لاکھ کے ضمانتی مچلکوں پر انہیں رہائی دی وسری بار بھی پیکج کی مکمل بحالی کا حکم سنایا جس پر سیکشن آفیسر کالجز نے عدالتی حکم پر بحالی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا زرائع کے مطابق حکومت آزاد کشمیر ایجوکیشن پیکج کو اسمبلی کے زریعہ ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے اس سلسلہ میں آج اسمبلی اجلاس بھی بلایا گیا ہے لیکن اپوزیشن نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے پھر عدالت کا رخ اختیار کرنے کی ٹھان رکھی ہے حکومت بار بار اعلیٰ عدالت کی توہین کررہی ہے ،اپوزیشن نے عدالتی فیصلہ کی خلاف ورزی پر سپیکر اسمبلی کے خلاف توہین عدالت کی رٹ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اگر ایجوکیشن پیکج اسمبلی کے زریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اپوزیشن نے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کرلیا ہے ،حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اکثریتی ممبران اسمبلی ایجوکیشن پیکج کے حق میں اپنا ووٹ دے سکتے ہیں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کشمیر

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved