باراک اوباما جاتے جاتے امریکی عوام کو افسردہ کر گئے، آخری خطاب میں کیا کہا ؟
  11  جنوری‬‮  2017     |     دنیا

واشنگٹن(روزنامہ اوصاف)امریکی صدر براک اوباما نے کہاہے کہ امریکا کا مستقبل آٹھ سال پہلے کی نسبت بہتر اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔اقتدار کی پرامن منتقلی امریکی جمہوریت کی علامت ہے۔شمالی امریکا کے علاقے شکاگو کے سب سے بڑے کنونشن سینٹر مک کورمک پلیس میں صدر اوباما نے الوداعی خطاب کیا، صدرکا خطاب سننے کے لئے20 ہزار کے قریب لوگ موجودتھے۔ 2012 کے صدارتی انتخاب میں مٹ رومنی کو شکست دینے کے بعدبھی باراک اوباما نے یہاں خطاب کیاتھا۔انہوں نے اپنی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی امریکی جمہوریت کی علامت ہے،تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جمہوریت کو ہلکا نہیں لینا چاہئے۔انہوں نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے امریکیوں سے کہا کہ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ،ہمیں اوروں پرتوجہ دینی اور انہیں سننا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ نسل پرستی نے ہمارے ملک کو ماضی میں تباہ کیا،مسئلہ آج بھی ہے۔ تارکین وطن کے بچوں پرتوجہ نہیں دی گئی تویہ امریکی بچوں سے بھی زیادتی ہوگی۔اوباما اہلیہ اوربیٹیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور کہا کہ وہ وائٹ ہا ؤس سے خطاب کرنے کی بجائے وہیں جانا چاہتے تھے جہاں سے ان کے اور خاتون اول مشیل اوباما کے لیے یہ سب شروع ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے پہلے سیاہ فام صدر جن کی عمر اس وقت 55 برس ہے پہلی مرتبہ 2008 میں امید اور تبدیلی کے وعدوں پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے 2008 میں منتخب ہونے کے بعد پہلا خطاب بھی شکاگو میں ہی کیا تھا دوسری جانب اپنی عہدہ صدارت کی مدت مکمل ہونے سے چند دن قبل اسرائیلی ٹیلی ویڑن کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بار پھر اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کو دو قومی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔اوباما کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کے باعث فلسطینی ریاست کا قیام مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہی وہ اور وزیر خارجہ جان کیری متعدد بار اسرائیل پر زور دے چکے ہیں کہ وہ نئی بستیوں کی تعمیر روک دے تاہم ان اپیلوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئیباراک اوباما کا کہنا تھا کہ انھوں نے اور جان کیری نے اسرائیل کے وزیراعظم کو سمجھانے کیلئے ان گنت کوششیں کی مگر اسرائیل کی حکومت نے کوئی بات نہ مانی اور آبادکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ صدر اوباما کا کہنا تھا اسرائیل کی اس پالیسی سے 2 ریاستی حل کی کوششوں کو ناکامی کا سامنا ہو گا اور مسلۂ مزید الجھ جائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved