امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ کی موت ….سراج الحق کے بیان نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی
  12  جنوری‬‮  2017     |     پاکستان
لاہور(روزنامہ اوصاف)ریاست پاکستان اوبامہ سے درخواست کرے کہ وہ عافیہ کی رہائی کے لیے خصوصی اختیارات کا استعمال کریں جس طرح دیگر 1300 قیدیوں کی رہائی کے لیے کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ رواں ماہ جنوری کی 20 تاریخ کو اوبامہ کی مدت ختم ہو رہی ہے اور نئے منتخب امریکی صدرٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ امریکہ کے صدربارک اوبامہ نے اپنے خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 1300 قیدیوں کو رہا کر دیا ہے اور اس کے چند دن باقی ہیں اور ان چند دنوں میں اگر حکومت پاکستان عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے درخواست دے تو 100 فیصد امکان ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی ہو جائےگی۔اس کے لیے میں وزارت خارجہ سے بات کروں گا ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ڈاکٹرعافیہ کی امریکی جیل میں موت پوری پاکستانی غیرت مند عوام کی موت ہو گی۔امریکی جیل میںعافیہ کی موت کا انتظار نہ کیا جائے ۔سینٹ میں بھی عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بات کرنا چاہوں گا لیکن وقت کم ہے اس لیے ریاست پاکستان سے اپیل کروں گا کہ امریکی صدراوبامہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے عافیہ کی رہائی کے لیے درخواست دے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ قوم کی بیٹی ہے اور پاکستان کی عزت ہے اور ہر لحاظ سے ہمارے اوپر یہ قرض ہے کہ ہم عافیہ کی رہائی کے لیے کوششیں کریں ۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان پانامہ لیکس میں سب سے پہلے سپریم کورٹ آئی ہے پانامہ سکینڈل کے بعد جماعت اسلامی پاکستان نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ٹرین مارچ کیا ۔عدالتوں میں احتساب کے لیے بل پیش کیے اور اس کے ساتھ عدالت کے دروازے پر بھی دستک دی۔ جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کیس میں جن لوگوں پر ذمہ داری بنتی ہے وہ نواز شریف اور اس کا خاندان ہے۔کیوں کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے خاندان کے چار افراد کا نام پانامہ لیکس میں آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج عدالت نے ہمارے موقف کی تائید اور ہماری پٹیشن کی تعریف بھی کی ہے لیکن عدالت نے مناسب سمجھا کہ حکومت اپنا موقف پیش کرے اور اس کے بعد جماعت اسلامی کا موقف سنا جائے۔ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس خرابی کی جڑ حکمران خاندان ہیں۔جب تک حکمران خاندان کا احتساب نہ ہو اس وقت تک اصلاح کرنا ناممکن ہے اس لیے بدھ کو عدالت میں نئی درخواست جمع کرائی تھی جس میں جماعت اسلامی نے نواز شریف کو عدالت میں بلانے کی استدعا کی تھی اور مجھے امید ہے کہ وہ لمحہ ضرور آئے گا جب وزیراعظم کو عدالت میں آنا پڑے گا اور پانامہ لیکس کے حوالے سے جواب دینا پڑے گا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
33%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved