پا کستا نی فو ج نے افغان سفارتخا نے کے حکا م کو جی ایچ کیو میں طلب کر کے کیا کہا ؟
  17  فروری‬‮  2017     |     اہم خبریں

راولپنڈی (روز نامہ اوصاف)پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیو طلب کر کے ان سے وہاں پناہ لینے والے دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ربراہ میجر جنرل آصف غفور نے جمعے کی صبح ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ افغان حکام کو ایسے 76 دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جنھوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے۔آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق افغان حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں اور انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔افغان حکام کی فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز طلبی کو ایک غیرمعمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عموماً یہ ذمہ داری ملک کے دفترِ خارجہ سرانجام دیتا ہے۔خیال رہے کہ جمعرات کی شام سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش حملے میں 70 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بھی تاحکمِ ثانی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق طورخم کے بعد چمن کے مقام پر بھی افغان سرحد بند کر دی گئی ہے اور سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کو گولی مار دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان حملوں میں سے بیشتر کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان سے علیحدہ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔پاکستانی سول اور فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں چھپے شدت پسندوں نے کی ہیں۔دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسی سلسلے میں جمعے کو امورِ خارجہ کے لیے پاکستانی وزیرِاعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی حنیف اتمر سے ٹیلیفون پر بات کی ہے۔اس گفتگو کے دوران سرتاج عزیز نے کہا ہے پاکستان کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ افغان حکومت نے شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کرنے کے بار بار کیے گئے مطالبات پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سرتاج عزیز نے افغان مشیر کو بتایا کہ پاکستانی حکومت اور عوام میں جماعت الاحرار کی جانب سے ملک میں شدت پسندی کی حالیہ کارروائیوں پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔سرتاج عزیز نے کہا پاکستان کو شدید تشویش ہے کہ جماعت الاحرار افغانستان میں اپنے ٹھکانوں اور محفوظ پناگاہوں سے سرگرم ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کر رہی ہے اور یہ کہ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبات کے باوجود افغان حکومت نے اس گروپ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ہے۔ مشیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے قریبی تعاون ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ افغان حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے اور یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ دشمن ایجنسیاں خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گرد افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارے معاشرے میں شک اور مایوسی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جنرل باجوہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کوششیں جاری رہیں گی کہ پاکستانی سرزمین کسی اور ملک میں کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو اور ہم توقع کرتے ہیں کہ دیگر ممالک بھی اپنی سرزمین پاکستان میں کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved