پاکستان بمقابلہ ویسٹ اندیز ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی خوشخبری مل گئی
  21  اپریل‬‮  2017     |      سپورٹس

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق ٹیسٹ کھلاڑی اقبال قاسم نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی جیت کے امکانات روشن ہیں، پاکستانی بیٹسمینوں کو ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہو گا،اپنے ایک انٹرویو میں اقبال قاسم نے کہا کہ پاکستانی بیٹسمینوں کی سب سے بڑی کمزوری شارٹ پچ بولنگ اور باہر جاتی ہوئی گیندوں کو کھیلنا ہے اور بلے بازوں کو سیریز میں اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اس وقت تعمیرِ نو کے مرحلے میں ہے۔ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستانی ٹیم تعمیرِ نو کے مرحلے سے گزر کر آگے بڑھ رہی ہے۔ کپتان مصباح الحق اور باقی کھلاڑی کافی تجربہ کار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موقع ملا ہے کہ وہ پہلی بار ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت سکے کیونکہ ویسٹ انڈین ٹیم خود بھی اس وقت مشکلات میں ہے۔اقبال قاسم نے ٹیسٹ سکواڈ میں نوجوان لیگ سپنر شاداب خان کی شمولیت کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا 'ان کی شمولیت سے ٹیم مضبوط ہوئی ہے۔ انھیں ٹی ٹوئنٹی میں سیکھنے کا موقع ملا۔ اب اگر انھیں ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کا موقع نہ ملا تو بھی اْن کے سیکھنے کا تجربہ مزید بہتر ہو گا۔ان کے مطابق شاداب خان میں اگر صلاحیت ہے تو انھیں کھیلنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ 'امکان ہے کہ کپتان دو رائٹ آرم لیگ سپنرز کھلانے کا چانس لے اور یہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے۔پاکستان کی جانب سے 50 ٹیسٹ میچوں میں 171 وکٹیں حاصل کرنے والے اقبال قاسم نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستانی ٹیم کی کمزوریوں پر اٹیک ضرور کرے گی تاہم یونس خان اور مصباح الحق کی موجودگی سے ان کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہمصباح الحق اور یونس خان کے جانے سے خلا ایک دن میں تو پورا نہیں ہو گا لیکن بابر اعظم، اسد شفیق اور محمد حفیظ جیسے کھلاڑیوں میں ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔انھوں نے نئے آنے والے کرکٹرز کو ٹیسٹ ٹیم میں کھلانے اور ان کی ٹریننگ پر زور دیا تا کہ مستقبل میں یہی نوجوان پرانے کرکٹرز کی جگہ لے سکیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved