حکومت اور وزرات داخلہ بلاک شناختی کارڈ کا معاملہ حل کرنے میں سنجیدگی سے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے،مرتضیٰ جاوید عباسی
  21  اپریل‬‮  2017     |     اہم خبریں
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت داخلہ نے تین لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے بلاک شناختی کارڈ کلیئر کرنے کےلئے قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ہدایات جار ی کر دی ہیں ،1978سے پہلے کا تصدیق شدہ لینڈ ریکارڈ ،ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ،شجرہ نسب،تعلیمی اسناد،پاسپورٹ ،مینول شناختی کارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ڈرائیونگ و اسلحہ لائسنس دکھانے والے کے بلاک شناختی کارڈ کلیئر کر دئیے جائیں گے ،خفیہ اداروں کی جانب سے غیر ملکی قرار دئیے جانے والے افراد کے شناختی کارڈ ز کی تصدیق کےلئے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کی نگرانی ممبران اسمبلی کریں گے پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہاکہ پاکستانیوں کے بلاک شناختی کارڈ کھولنے کے حوالے سے قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا قیام فروری کے مہینے میں عمل میں لایا گیا تھا اور کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے انہوںنے کہاکہ کمیٹی نے بلاک شناختی کارڈز کے معاملے پر نادرہ حکام کے ساتھ کئی میٹنگز منعقد کئے اور اپنی سفارشات وزارت داخلہ کو پیش کر دی انہوں نے بتایا کہ انہی سفارشات کی روشنی میں وزارت داخلہ نے بلاک شناختی کارڈ ز کو کلئیر کرنے کے حوالے سے پالیسی بناتے ہوئے 19اپریل کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے انہوںنے بتایاکہ نوٹیفیکیشن کے مطابق بلاک ہونے والے تمام شناختی کارڈز کلیئر کرنے کےلئے 7نکات پر مشتمل طریقہ کار بنایا گیا ہے جس کے تحت 1978سے قبل کا لینڈ ریکارڈ جو کہ محکمہ مال سے تصدیق شدہ ہو دکھانے یا 1978سے قبل بنایا جانے والا تصدیق شدہ ڈومیسائل سرٹیفیکٹ،تصدیق شدہ شجرہ نسب فراہم کرنے ،1990سے قبل کا سرکاری ملازمت کا ریکارڈ فراہم کرنے ،1978سے قبل کا تصدیق شدہ تعلیمی اسناد فراہم کرنے یا 1978سے قبل کا تصدیق شدہ اسلحہ یا ڈرائیونگ لائسنس یا ہاتھ سے بنا ہوا شناختی کارڈ دکھانے والے شخص کا شناختی کارڈ کلیئر کر دیا جائے گا انہوں نے بتایاکہ ان تمام میں سے کوئی بھی ایک دستاویزی ثبوت دکھانے کے بعد مذید کسی قسم کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہوگی اور شناختی کارڈ اگلے 7دنوں میں کلیئر کر دیا جائے گاانہوں نے بتایاکہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ پر بلاک ہونے والے شناختی کارڈزکے سلسلے میں تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنر اور ایجنسیوں میں پولیٹکل ایجنٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے کمیٹی میں ڈسٹرکٹ پولیس افیسر،اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا،آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے شامل ہونگے اس کمیٹی کی نگرانی متعلقہ اضلاع کے ممبران قومی اسمبلی کریں گے جبکہ شناختی کارڈز کلیئر کرنے کی ذمہ داری متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور پولیٹکل ایجنٹ پر عائد ہوگی انہوںنے بتایاکہ اگر متعلقہ ضلع کے رہائشی ہونے کی صورت میں دستاویزات فراہم کرنے کے بعدنادرہ حکام اگلے 6دنوں میں شناختی کارڈ کلیئر کریں گے جبکہ دیگر اضلاع کی صورت میں 30دنوں میں کیس کا فیصلہ سنایا جائے گاانہوںنے بتایاکہ بلاک شناختی کارڈز کلیئر کرنے کا طریقہ کار ان افراد پر لاگو نہیں ہوگا جو کہ 1951کے شہریت ایکٹ کے سیکشن 16Aکے زمرے میں آتے ہوں انہوںنے کہاکہ بعض سیاسی جماعتیں بلاک شناختی کارڈ کے معاملے پر اپنی سیاست چمکانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور پختونوں پر یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت ان کی دشمن ہے انہوںنے کہاکہ بلاک شناختی کارڈز کو کلیئر کرنے کے حوالے سے کسی بھی حکومت میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور یہ اعزاز بھی مسلم لیگ ن کو حاصل ہوگیا ہے ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
90%
ٹھیک ہے
3%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
7%




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved