فوجیوں کے بارے میں بات کرنا آسان، ان کی تکلیف جاننا مشکل ہے،آرمی چیف
  18  مئی‬‮  2017     |     اہم خبریں

راولپنڈی(مانیٹر نگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سوشل میڈیا پر پاک فوج پر ہونے والی بلا جواز تنقید پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملے وکیل ہم نے بلایا،ساری ذمہ داریاں فوج پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، فوج اکیلے کچھ نہیں کر سکتی، تمام اداروں کو بھی آگے بڑھ کر اور مل کر کام کرنا ہوگا،پوری قوم فوج، پولیس اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہو،میرے جوانوں کو آرام بھی نہیں ملتا ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر جا رہے ہیں ، فوجیوں کے بارے میں بات کرنا آسان ہے لیکن انکی تکلیف کا احساس کوئی نہیں کرتا،گزشتہ دنوں فوج اور خاص کر مجھے ٹارگت کیا جس پر میں نے پہلے فیصلہ کیا تو بیٹے نے کہا آپ نے پاپولر لیکن غلط فیصلہ کیا،دوسرا فیصلہ کیا تو کہا اب ان پاپولر لیکن درست فیصلہ کیا،ہماری نوجوان نسل اسٹریٹ فارورڈ ہے ہمارے سمت بھی بہتر کر دے گی،دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوان نسل کے کردار پر جی ایچ کیو میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ میں روز اپنے بچوں کا درد سہتا ہوں۔ فاٹا اور وزیرستان میں جب بھی کوئی فوجی جوان شہید ہوتا ہے اس کا غم اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں۔ ملک میں دہشتگردی سے جب کوئی عام شہری شہید ہوتا ہے تو میری آنکھ پرنم ہوتی ہے۔ سندھ سے سیمینار میں آئے ماہر تعلیم خالد حمید کے سوال کا جواب دینے آرمی چیف خود کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اکیلی فوج کچھ نہیں کر سکتی۔ فوج بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے۔ملک میں جہاں مسئلہ ہوتا ہے فوج کو بلایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی یا بلوچستان میں کچھ ہو تو فوج آئے۔ ریکوڈیک پر فوج کام کر رہی ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی پر ہم کام کر رہے ہیں۔ کلبوشن کے لئے وکیل ہم نے بلایا۔ یہ ملک سب کا ہے اور سب کی ذمہ داری ہے۔ ساری ذمہ داری صرف آرمی پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں جا سکتا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پوری قوم فوج، پولیس اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہو۔ ایسے ملک نہیں چل سکتا۔ سب کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہونگی۔ فوج اکیلے کچھ نہیں کر سکتی۔ تمام اداروں کو ملک کر کام کرنا ہوگا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں فوج اور اس سے پہلے بالخصوص مجھے بھی ٹارگٹ کیا گیا۔ پہلا فیصلہ کیا تو بیٹے نے کہا کہ آپ نے ایک پاپولر لیکن غلط فیصلہ کیا۔ دوسرا فیصلہ کیا تو بیٹے نے کہا کہ اب آپ نے ان پاپولر مگر درست فیصلہ کیا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل سٹریٹ فارورڈ ہے، ہماری سمت بہتر بنا دے گی۔انھوں نے کہا کہ جب تک ہماری نوجوان نسل میں جذبہ ہے پاکستان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔پوری قوم فوج، پولیس اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہو۔نوجوان اپنی فوج ، پولیس ، بیوروکریسی کیساتھ کھڑے ہوں،جب تک آپ کھڑے نہیں ہوں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔انھوں نے کہا کہ ملک میں 30 ہزار قانون نافذ کرنے والے اہلکار جان قربان کر چکے ہیں، میرے جوانوں کو آرام بھی نہیں ملتا ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر جا رہے ہیں ، فوجیوں کے بارے میں بات کرنا آسان ہے لیکن انکی تکلیف کا احساس کوئی نہیں کرتا۔انھوں نے کہا کہ نوجوان نسل ہمارے مستقبل کی سرمایہ کاری ہیں لیکن دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے نوجونوں کے ذہن تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پوری قوم اور ریاستی ادارے متحد ہیں جب کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہا پسندی کے خلاف لڑائی کو جاری رکھنا ہو گا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپریشن ردالفساد ایک نئے دور کا آغاز ہے جب کہ سیکیورٹی خدشات کم کرنے سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا۔ آرمی چیف نے کہا کہ پوری دنیا نے ہماری اس کامیابی کو سراہا، 'ایسی بہادر، پیشہ ورانہ اور پرعزم فوج کا سپہ سالار ہونے پر اللہ کا شکر گزار ہوں'۔ساتھ ہی انہوں نے کہا 'یہ کہتے جھجھک نہیں ہوتی کہ پاکستانی فوج دنیا کی بہترین اور دہشت گردی کے خلاف جوانمردی سے مقابلہ کرنے والی دنیا کی واحد فوج ہے'۔انھوں نے کہا کہ ہماری آبادی کا 50 فیصد سے زائد 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہمارے ملک کا مستقبل ان ہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ شدت پسندی کی طرف مائل نوجوان وہ ہیں، جن کے پاس اقدار اور شناخت کا کوئی واضح تصور نہیں ہوتا۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، آج سے 10 سال بعد یا تو ہم پھل کاٹ رہے ہوں گے یا پھر یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے نوجوان شدت پسندی کے ہاتھوں متاثر ہوئے'۔انھوں نے کہا کہ ہم صرف دہشت گردوں کے ہی نشانے پر نہیں ہیں بلکہ دشمن قوتوں نے بھی ہمیں ہدف بنا رکھا ہے، جو خاص کر ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون جیسے پلیٹ فارمز استعمال کیے جارہے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں پراکسی وار میں ہندوستانی قیادت کا ملوث ہونا کوئی راز نہیں اور اب بلوچستان میں بھی ان کے مقاصد ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ منفی پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان نے دہشت گردی کو مسترد کردیا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved