عالمی عدالت کیلئے ناتجربہ کار وکیل کیوں چنا؟شرمناک حقائق سامنے آگئے
  19  مئی‬‮  2017     |     اہم خبریں

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) عالمی عدالت کیلئے ناتجربہ کار وکیل کیو ں چنا ؟ پاکستانی وکیل نے 90 کے بجائے صرف 50 منٹ کیوں استعمال کئے ؟دلائل کیلئے اٹارنی جنرل خود ہیگ کیوں نہیں گئے ؟ ایڈہاک جج مقرر کیوں نہیں کیا گیا ؟ تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے وزیر اعظم سے 7 اہم سوالات کے تفصیلی جواب مانگ لیے ۔ دفتر خارجہ نے معاملے پر خط و کتابت کرنے سے پہلے ضروری قانونی مشاورت کیوں نہیں کی؟ پاکستان نے ایسے وکیل کا انتخاب کیوں کیا جس کے نام پر برطانوی سپریم کورٹ کا ایک بھی اعلان شدہ مقدمہ موجود نہیں؟وزیر اعظم وضاحت کریں کہ ایسے وکیل کا انتخاب کیوں کیا گیا جس نے آزادانہ طور پر عالمی عدالت انصاف میں کبھی کوئی مقدمہ ہی نہیں لڑا ؟ اٹارنی جنرل کو بھجوانے کے بجائے ان کے ایک معاون کو عالمی عدالت انصاف کیوں بھجوایا گیا؟ حکومت نے قطر سے تعلق رکھنے والے وکیل (لندن کیو سی) کو اس مقدمے کیلئے کیوں منتخب کیا؟عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ آتے ہی اپوزیشن نے حکومت پر تنقید کے نشتر چلا دیئے متعدد سوالات بھی اٹھادیئے ۔ شفقت محمود نے کہا اس معاملے پر وضاحت حاصل کئے بغیر خاموش نہیں ہوں گے ۔ بند کمروں اور خفیہ اجلاسوں میں اختیار کی گئی حکمت عملی اسی نوعیت کی ناکامیاں لے کر آتی ہے ۔نواز حکومت نے جان بوجھ کر اس معاملے پر کمزور اور ناقص حکمت عملی اختیار کی ۔ آج کے فیصلے کو جندال کی نواز شریف سے ملاقات کا ثمر کہنا بھی درست دکھائی دے رہا ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی نے کہا کلبھوشن کیس کو حکومت نے مس ہینڈل کیا ،شیری رحمٰن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کیا 10 مئی تک پاکستان کے پاس ایڈہاک جج کے تقرر کا حق موجود تھا ، حکومت پاکستان بہت کچھ کرسکتی تھی ، ہمیں تشویش ہے جو اقدامات ہونے چاہئیں تھے وہ نہیں کئے گئے ۔ حکومت کی تیاری نہیں تھی ، کلبھوشن کے معاملے پر عالمی بیانیہ مستحکم انداز میں کیوں نہیں پیش کیا گیا ، انہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہم نے کسی بھی فورم پر کلبھوشن کا نام نہیں لیا ،بھارت میں کلبھوشن سے متعلق روز بریفنگ ہو رہی ہے ، عالمی عدالت نے حتمی فیصلہ نہیں دیا لیکن بھارت نے حکم امتناعی تو لے لیا ہے ۔ عسکری تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا عالمی عدالت میں پاکستان نے مضبوط موقف اختیار نہیں کیا ، بھارت کو کمزور موقف کی وجہ سے فائدہ ہوا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved