اردوبولنے والوں کی صحیح اورسچی قیادت مصطفی کمال اورانیس قائم خانی کی قیادت میں متحدہے،غلام نبی
  19  جون‬‮  2017     |     یورپ
لندن (پ ر) پاک سرزمین پارٹی یو کے و یورپ کے جنرل سیکرٹری غلام نبی عامر نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ اردو بولنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب ایک نام نہاد شخص اردو بولنے والوں کا نام نہاد متفقہ لیڈر کہلانے لگا اس لیڈر اور اس کی جماعت نے روز اول سے ہی اردو بولنے والوں کا استحصال کی اہوا تھا۔ اس لیڈر کی پارٹی مہاجر نام سے شروع ہوئی اور پھر اقربا پروری کا نہ ختم ہونے والا کھیل شروع ہوا جب اقتدار میں ہوں تو کون مہاجر اور جب سیاسی جوتے پڑیں تو ہم مہاجر تیس سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے والی جماعت جو سندھ کے شہری علاقوں کی سیاہ و سپید کی مالک تھی اردو بولنے والوں کے لئے کوئی خاطر خواہ کام نہ کرسکی 19جون 92ء دراصل اسی پارٹی کا اختلاف تھا جو اندرونی اختلاف تھا اس اختلاف کی وجہ سے کچھ قیادت نے نام نہاد روحانی باپ سے اختلاف کیا اور علیحدہ پارٹی بنا لی اور صرف شخصی ہٹ دھرمی کے باعث ہزاروں اردو بولنے والے نوجوانوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کے بعد قتل کردیا گیا وہ گھر اجڑے گئے مائوں کی گود خالی ہوگئی کئی بہنیں بنا شادی کے بوڑھی ہوگئیں مگر پھر وقت نے دیکھا اختلاف کرنے والے اور جن سے اختلاف تھا پھر سے ایک چھتری تلے جمع ہوگئے اور 19جون 92ء کو جنہیں غدار قرار دیا گیا تھا انہیں پھر سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ دیئے گئے اور پارٹی کے اعلیٰ منصب کل کے غداروں کے پیروں کی دھول بنا دیئے گئے سیاہ دن 19جون نہیں بلکہ سیاہ دن وہ تھا جب ہزاروں نوجوانوں کی وجہ قتل کو پھر سے منصب کے زیور پہنا دیئے گئے اس پر ہی بس نہیں ہوا اپنے اقتدار کو طول دینے اور ہوس اقتدار نے اردو بولنے والی قیادت کو ان لیڈروں کے پیر چاٹتے ہوئے بھی دیکھا جو کہ کہیں نہ کہیں کسی جگہ اردو بولنے والون کے لئے سازشیں کیا کرتے تھے اور اس بات کا گواہ پورا پاکستان ہے کہ کس طرح کراچی و شہری سندھ میں نوجوان قتل ہوتے رہے اور اردو بولنے والوں کا نام نہاد لیڈڑ دیار غیر میں بے خبر اپنی پر آسائش زندگی گزارتا رہا اور گزار رہاہے۔ آج جبکہ مصطفے کمال اور انیس قائم خانی کی اصولی سیاست نے اس لیڈر اور اس کے حواریوں کے اصل چہرے بے نقاب کئے ہیں اور ایک عام انسان تک یہ سچائی پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح ماضی میں اردو بولنے والوں کا نام استعمال کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر پاکستانیوں نے ان کے مکروہ چہرے پہچان لئے ہیں تب سے اس لیڈر اور اس کے حواریوں نے پھر سے مہاجر مہاجر کی صدا لگانی شروع کی ہے مگر اب اردو بولنے والا سچا پاکستانی ہے اور صحیح اور سچی قیادت سید مصطفی کمال اور انیس احمد قائم خانی کے ساتھ پاکستانی پرچم کے سائے میں متحد ہے۔ انشاء اﷲ آنے والا وقت صحیح اور سچی قیادت کے منتخب کرنے والا ہوگا اب پاکستان کی سیاست میں کسی ماں کی جوان اولاد کسی بدمست لیڈر کی بھینٹ نہیں چڑھے گی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved