ہر اللا تللا بغیر وجہ کے سپریم کورٹ دوڑتا چلا آرہا ہے، دانیا عزیز
  17  جولائی  2017     |     اہم خبریں

اسلام آباد(اوصاف نیوز)مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز نے چوہدری شجاعت ، فاروق ستار اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جن لیڈروں کا پاناما کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں تھا وہ ایسے سپریم کورٹ دوڑتے چلے آئے ہیں جیسے ان کی ڈیوٹی لگائی گئی ہو ۔سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاناما کیس میں 24اگست 2016کو جماعت اسلامی کی درخواست 450لوگوں کے خلاف تھی،اس درخواست پر کسی قسم کا احتجاج نہیں ہوا ،29اگست کو عمران خان نے شریف خاندان کے خلاف درخواست دی تو اس کے بعد جماعت اسلامی نے بھی اپنی پہلی درخواست واپس لے کر صرف وزیر اعظم کے خلاف نئی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ،جماعت اسلامی کی یہ سوچ انتقامی کارروائی کی نشاندہی کرتی ہے ۔ دانیا ل عزیز نے کہا کہ آج کی سماعت میں ہمارے وکیل نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو رد کردیا ہے ،خواجہ حارث نے عدالت کو باور کرایا ہے کہ قانونی تقاضے پور ے کیے بغیر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو لے کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا یا جائے ،اگر قانون کی بالا دستی کرنی ہے تو سب کے لیے کی جائے ،صرف شریف خاندان کے لیے نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے غلط رپورٹ تیار کی ہے ،یہ چیز اب نہیں چلے گی اور عوام کی رائے محترم ہو گی ۔دانیا ل عزیز نے کہا کہ آئین کی بالادستی پارلیمنٹ کے ذریعے ہو گی ،اگر اس چیز کو کوئی نہیں سمجھ سکتا اور اپنے حلف کی پاسداری نہیں کرے گا تو عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے ۔ اس موقع پر لیگی کارکنوں نے سپریم کورٹ میں نعر ے بازی بھی کی،میاں تیرا ایک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا ۔دانیال عزیز نے مزید کہا کہ اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کو یہ کونسا انوکھا دبا ہے جو صرف ایک شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔آج ایک اہم بات سامنے آئی کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا ایک ایک صفحہ پڑھ کر بتایا جا رہا تھا،پوری رپورٹ میں صفحہ 73 کا کوئی ذکر نہیں ہے،صفحہ 73 میں لکھا ہے کہ وزیراعظم صرف مالک اس بنا پر ہیں کہ وہ وہاں جا کر رہتے ہیں اور یہ حتمی رپورٹ نہیں ہے،رپورٹ میں اس متعلق کسی قسم کا کوئی تعلق منسلک نہیں کیا گیا،جو مختلف سوال ہوتے رہے اس میں متعدد بار جرح ہوئی ہے ،ان دستاویزات کی تصدیق عدالتی سماعت کے مطابق ہیں یا انہیں سنا بھی نہیں جا سکتا،کیا یہ دستاویزات ثبوت کے طور پر استعمال بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں،ثبوتوں کو توڑ مروڑ کر عدالت کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کیلیبری کا فونٹ 2004 میں آچکا تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved