کشمیریوں کی جدوجہدکودہشت گردی قراردینا بدترین مذاق ہے،چیف جسٹس (ر)محمداعظم
  13  اگست‬‮  2017     |     یورپ

اولڈہم (محمد فیاض بشیر) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی اداروں کی جانب سے نہتے معصوم اور بے گناہ لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم عالم اقوام اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے انسانی حقوق کی پامالی روز کا معمول بن گئی ہے کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح سے یہ ان کا پیدائشی حق ہے جو بہر صورت ملنا چاہئے مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں دہشت گردی سے تشبیہہ دینا ایک بدترین مزاح ہے' عالمی میڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ طور پر جو رپورٹ مرتب کی ہے اس میں واضح طور پر کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی ایسا گھر موجود نہیں ہے جہاں پر بھارتی جارحیت کی مثال موجود نہ ہو برطانیہ کی سب سے زیادہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق دلوانے کے لئے مرکزی کردار ادا کریں کیونکہ تقسیم پاک و ہند کے وقت اس اہم ترین مسئلہ کو ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان خیالات کا برملا اظہار آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے زکریا اینڈ کمپنی سالسٹرز کے روح رواں ظفر اقبال سالیسٹر کی جانب سے اپنی رہائش گاہ پر ان کے اعزاز میں دیئے گئے ایک استقبالیہ کے موقع پر کیا انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں عدالتوں کا نظام قدرے بہتر ہے ججوں کی کمی' فریقین کی جانب سے تاخیری حربے اور بعض اوقات وکلاء کی جانب سے دانستہ طور پر کیس کو لمبا کرنے کی وجہ سے فیصلے ہونے میں بہت زیادہ تاخیر ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازاد کشمیر میں 62,63 شقوں کا قانون موجود نہیں ہے بلکہ الیکشن ایکٹ کے تحت عبوری آئین ہے جس کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں ہمیشہ قانون کے عین مطابق فیصلہ کرتی ہیں اس میں ذاتی پسند یا ناپسند کا عنصر شامل نہیں ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر میں بین الاقوامی قانون کے تحت 1971 کے ایکٹ میں ترمیم کرکے بنیادی حقوق دیئے گئے اس سے پہلے نہیں تھے انہوں نے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد نے پچاس اور ساٹھ ہی دہائی میں برطانیہ آکر سخت محنت کرکے آج تیسری نسل کو اس مقام پر پہنچایا ہے کہ وہ تمام محکمہ جات میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ میں آٹھ کشمیری نژاد اور چار پاکستانی ممبران پارلیمنٹ موجود ہیں جو ہمارے لئے باعث فخر ہے بیرون ممالک بسنے والوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا حکومت پاکستان و آزاد کشمیر کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے انہوں نے لاء سوسائٹی کے ممبران اور میزبان کا دلی شکریہ ادا کیا۔ برطانیہ کی امیگریشن جج لورین منیسا نے کہا کہ برطانیہ کا عدالتی نظام سیاست سے بالاتر ہے اور غیر جانبدار اور منصفانہ نظام عدل رائج ہونے میں کافی سال لگے تھے۔ اولڈہم لاء سوسائٹی کی صدر فرانس گرین ہالگ کونسلر شفیق ' راجہ غلام حیدر خان' ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان' ممبر برطانوی پارلیمنٹ دیبی ابراہم و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض میزبان ظفر اقبال نے سرانجام دیئے تلاوت کلام پاک کا شرف قاری منظور احمد شاکر کو نصیب ہوا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved