جے آئی ٹی کے فیصلے کے بعد 5رکنی بنچ آج کیا کر نے جا رہا ہے ؟
  13  ستمبر‬‮  2017     |     اہم خبریں

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے فیصلے کیخلاف برطرف وزیراعظم نواز شریف ، ان کے بچوں اور داماد کیپٹن صفدر کی جانب سے دائر درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کرلیا ہے، جب کہ چیف جسٹس نے تین رکنی بنیچ کی سفارش پر نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کیلئے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل،جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل ابتدائی لارجر بنیچ آج نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔گزشتہ روز جسٹس اعجازافضل خان کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اورجسٹس اعجازالاحسن پرمشتمل تین رکنی بنیچ نے نوازشریف ، ان کے بچوں اور داماد کی جانب سے پاناما فیصلے پر نظر ثانی کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر مریم نواز سمیت وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر سلمان اکرم راجا نے سماعت مؤخر کرنے کی درخواست پردلائل دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف علیحدہ درخواست عدالت میں دائرکردی گئی۔گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں سلمان اکرم راجہ نے استدعا کی کہ پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو بھی اسی درخواست کے ساتھ پانچ رکنی بینچ میں سنا جائے، جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف دو قسم کی نظرثانی کی اپیلیں داخل کرا ئی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم تو بنیادی طور پر تین ججو ں کا تھا اگر یہ تین جج نظرثانی کی اپیل کی سماعت کرنے کے بعد اپنا ذہن تبدیل کر لیتے ہیں تو اس صورت میں پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ بھی تبدیل ہو جائے گا۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جن 2 ججز نے کیس نہیں سنا تھا وہ فیصلے میں نہیں بیٹھ سکتے تھے، اصل فیصلہ تو لارجر بینچ کا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
25%
کوئی رائے نہیں
25%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved