کیا نواز شریف تاحیات نا اہل ہوئے تھے؟؟؟؟سپریم کورٹ نے واضح کر دیا
  13  ستمبر‬‮  2017     |     اہم خبریں

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی سماعت کی گئی۔ اس دوران سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث پیش ہوئے ۔ خواجہ حارث اور ججز کے مابین دلچسپ مکالمے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں پانامہ کیس فیصلے پر نظر ثانی درخواست پر پہلی سماعت کی۔اس موقع پر نواز شریف نا اہلی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے معزز جج صاحبان کا

کہنا تھا کہ اکثریتی فیصلے میں مختلف وجوہات پر سابق وزیر اعظم،میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا۔میاں محمد نواز شریف کی نا اہلی 62ون ایف پر ہوئی۔اس پر شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے پوچھا کہ کیا دو مختلف وجوہات پر 62ون ایف لگایا جا سکتا ہے۔کیا 62ون ایف کے تحت نواز شریف کی نا اہلی تا حیات ہے۔اس پر ججز نے کہا کہ فیصلے میں یہ کہا ں لکھا ہے کہ نا اہلی تا حیات ہے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل کا خواجہ حارث سے کہنا تھا کہ تا حیات نا اہلی کے لیے ہمیں آپکی معاونت درکار ہو گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
53%
ٹھیک ہے
11%
کوئی رائے نہیں
21%
پسند ںہیں آئی
16%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved