پاکستانی طالبہ کا منفرد کارنامہ ۔۔۔! امریکی سائنسدانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  22  ستمبر‬‮  2017     |     سائنس/صحت

اسلام آباد(روز نامہ اوصاف)برسٹل میں یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ (یوڈبلیو ای) میں زیرِ تعلیم پاکستان کی ہونہار طالبہ نیہا چوہدری نے پارکنسن کے مریضوں کےلیے ایک اسمارٹ چھڑی بنائی ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد استفادہ کرسکتے ہیں۔تفصیل کےمطابق نیہا چوہدری کے دادا پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ سات برس تک ان کے والد کے جوڑ سخت ہوجاتے تھے جس سے وہ بار بار گر کر زخمی ہوجاتے تھے۔ اسی مناسبت سے یہ چھڑی مریض کے جوڑ میں اکڑن اور سختی محسوس کرکے ارتعاش پیدا کرتی ہے اور مریض دوبارہ بحال ہو کر پھر سے چلنے لگتا ہے۔نیہا نے یو ڈبلیو ای میں گریجویشن کے دوران یہ چھڑی تیار کی تھی جس سے خود برطانیہ کے 125000 پارکنسن مریض استفادہ کرسکتے ہیں اور یہ اسٹک عضلات اچانک جامد ہوجانے پر تھرتھراہٹ پیدا کرکے مریض کو دوبارہ چلنے کے قابل بناتی ہے۔اس اہم ایجاد کو برطانیہ میں ہزاروں افراد پر آزمایا جاچکا ہے اور خود برطانوی نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) اور پارکنسن کی تنظیم نے

اس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اب نیہا نے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی ہے جسے ’واک ٹو بیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نیہا نے بتایا کہ جب یہ چھڑی مریضوں کو دی گئی تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ نمایاں تھی اور اکثریت نے کہا کہ یہ چھڑی واقعی کام کی ہے۔اس ایجاد کی کامیابی ہی میری سب سے بڑی خوشی ہے۔ پارکنسن کا کوئی علاج نہیں کیونکہ دوائیں صرف اس کیفیت کو ٹال دیتی ہیں جبکہ مریض چلتے چلتے گرجاتا ہے کیونکہ اس کے اعضا اور پٹھے منجمد ہوجاتے ہیں،‘ نیہا نے بتایا۔ انہوں نے اس کام کو 2014 میں اپنے فائنل ایئر پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا تھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved