جی بی کے آئینی حقوق، آزاد کشمیرکیساتھ سیٹ اپ کی حمایت کرتے ہیں،قیوم راجہ
  23  ستمبر‬‮  2017     |     گلگت بلتستان

گلگت(اوصاف نیوز) آزاد کشمیر سے گلگت کے دورے پر آئے ہوئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینئر رہنماء اور مقبول بٹ شہید کی پھانسی کے انتقام میں برطانیہ میں قتل ہونے والے بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں ماورائے عدالت ۲۲ سال سزا کاٹنے والے حریت پسند قیوم راجہ نے کہا ہے کہ وہ اور انکی جماعت گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور آزاد کشمیر میں اسکی نمائندگی یا مشترکہ سیٹ اپ کی بھر پور حمایت کرتے ہیں لیکن آزاد کشمیر کے حکمران خود ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے روز اول سے ہی اقتدار کی خاطر قومی حقوق پر کمپرومائز کر رکھا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے اقتدار پرست ٹولے میں کوئی فرق نہیں ہے یہ بات قیوم راجہ نے یہاں گلگت میں وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال کی طرف سے وزیر اعظم آزاد کشمیر سے گلت بلتستان کے آئینی حقوق اور آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی کے مطالبہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کئی۔ قیوم راجہ نے کہا کہ وہ یورپ میں جب وحدت کشمیر کی بحالی اور گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کیا کرتے تھے تو ان پر بعض عناصر انٹی پاکستان ہونے کا الزام لگا کر خاموش کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ہمارے جسم کا حصہ ہے اس لیے یہاں کے عوام کے حقوق بارے آواز بلند کرنا ہمار اسی طرح ا فرض و حق ہے جس طرح پاکستانی اندرون و بیرون ملک خود اپنے حقوق کے لیے اپنی حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ قیوم راجہ نے گلگت بلتستان کے سیاستدانوں اور مائرین کو تجویز دی کہ وہ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں نمائندگی یا مشترکہ سیٹ اپ کے لیے ان جیسے وحدت پسند لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر وحدت کی بات کیا کرتے تھے لیکن اقتدار میں آ کر وہ بھی بے بس ہو گے ہیں۔ قیوم راجہ نے یہاں ایک ہفتہ قیام کے بعد اپنے تاثرات میں کہا کہ گلگت بلتستان جبر کا شکار رہنے کے باوجود اپنی ثقاوت قائم رکھے ہوئے ہے جبکہ آزاد کشمیر اپنا کلچر کھو چکا ہے

انہوں نے کہا کہ وہ طویل قید سے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ یہاں آئے ہیں اور انہیں یہاں آ کر گلگت بلتستان کی سیاسی و تاریخی حیثیت و اہمیت سمجھنے میں مزید مدد ملی ہے وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان ہم آہنگی پید کرنے کی کوششوں کو مزید تیز کریں گے۔ انہوں نے رکن اسمبلی نواز خان ناجی ڈپٹی سپیکر جعفراﷲ خان۔ انرجی وزیر حیدر خان اور قاہد حزب اختلاف حاجی شاہ بیگ سے بھی ملاقات کی اس دوران میزبان کی حیثیت سے جب انہوں نے قیوم راجہ سے پوچھا کہ وہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو قریب لانے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت اچھے تاثرات لے کر جا رہے ہیں اور انشااﷲ اب یہاں آتے جاتے رہیں گے۔ ریاستی عوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور عالمی یجہتی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے چند ہفتے قبل انٹرنیشنل سالیڈیریٹی اینڈ پیس انیشٹو کے نام سے ایک فورم بھی قائم کیا ہے جس میں باشعور کشمیریوں کو کردار ادا کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ قیوم راجہ نے رکن اسمبلی محمد نواز خان ناجی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے دورے کو بامقصد بنانے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا نواز خان ناجی جس طرح اور جن حالات میں وحدت کشمیر کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں اسکی وجہ سے اگر انہیں شیر گلگت کہا جائے تو قطعی غلط نہ ہو گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

اہم خبریں

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved