علامہ طاہراشرفی نے امریکیوں سے کیاڈیل کی ۔۔؟تفصیلات منظرعام پرآگئیں
  10  جنوری‬‮  2017     |     پاکستان

اسلام آباد(رپورٹ ،عمرفاروق )پاکستان سے فرقہ واریت کے خلاف متبادل بیانیہ تیارکرنے کے لیے امریکہ نے 90ہزارڈالر(تقریبا ایک کروڑروپے پاکستانی )کے عوض علامہ طاہراشرفی سے معاہدہ کرلیاہے معاہدے کے تحت چاروں صوبوں میں علامہ طاہراشرفی فرقہ واریت کے حوالے سے حساس علاقوں میں فورری رسپانس ٹیموں کاانتخاب اوران کی تربیت کریں گے فوری رسپانس ٹیمیں سول سوسائٹی اورمذہبی رہنمائوں پرمشتمل ہوں گی یہ پروجیکٹ امریکی محکمہ خارجہ کاہے جس میں علامہ طاہراشرفی کے ساتھ پیس اینڈایجوکشن فائونڈیشن این جی اوبھی شراکت دارہوگی معاہدے کے تحت نوے ہزارڈالر کی رقم چارقسطوں میں دی جائے گی تفصیلات کے مطابق امریکہ نے پاکستان سے فرقہ واریت کے خاتمے ،سدباب اورانتہاپسندی کے خلاف متبادل بیانیہ تیارکرنے کے لیے پاکستان کے معروف عالم دین وسکالرعلامہ طاہراشرفی کی خدمات حاصل کرلی ہیں اس کے لیے گزشتہ سال 9مارچ کو علامہ طاہراشرفی کی این جی اوعلم وامن فائونڈیشن اورامریکی ادارےICRD(انٹرنیشنل سنٹرفارریلیجین اینڈڈپلومیسی )کے درمیان معاہدہ ہواہے اس پرووجیکٹ کے لیے مالی مددامریکی محکمہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ دے رہاہے معاہدے پرآئی سی آرڈی کے نائب صدرجیمزپیٹن (JAMES PATTON)کے دستخط ہوئے ہیں معاہدے کااطلاق یکم اکتوبر2016سے 31جولائی 2018تک ہوگا ذرائع کاکہناہے کہ یہ معاہدہ علامہ طاہراشرفی کی ان خدمات کے عوض کیاگیاہے جوانہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے کی ہیں خاص کرکے رمشامسیح کیس میں علامہ طاہراشرفی نے جوکرداراداکیاتھا اس کوامریکہ نے تحسین کی نگاہ سے دیکھاہے اوراس کیس کے حوالے سے اس وقت نیویارک ٹائمز میں علامہ طاہراشرفی کی تعریف پرایک آرٹیکل بھی تحریرکیاگیاتھا اس معاہدے کے تحت علامہ طاہراشرفی کی این جی اوعلم وامن فائونڈیشن ایک دوسری این جی اوپیس اینڈایجوکیشن فائونڈیشن کے ساتھ مل کرکام کرے گی پیس اینڈایجوکشن کواس حوالے سے الگ معاوضہ دیاجائے گاپروجیکٹ کی اصل مالیت 3لاکھ 60ہزارڈالرہے جس میں نوے ہزارڈالرعلامہ طاہراشرفی اورباقی پیس اینڈایجوکیشن کودیئے جائیں گے پیس اینڈایجوکشن فائونڈیشن وہی این جی اوہے جس کی نصاب تعلیم کے حوالے سے حال ہی میں ایک رپورٹ پرمذہبی حلقوں نے تشویش کااظہارکیاتھا معاہدے میں لکھا گیاہے کہ امریکہ کی طرف سے جورقم فراہم کی جارہی ہے وہ کسی کالعدم جماعت یافردکونہیں دی جاسکے گی معاہدے کے تحت یہ بھی لازم ہے کہ رقم حاصل کرنے والاکبھی بھی فرقہ واریت اوردہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث نہ رہاہومعاہدکے لیے ضروری ہے کہ اس کاکبھی بھی طالبان ،القاعدہ اوراسامہ بن لادن یااس جیسی دوسری تنظیموں سے تعلق نہ رہاہو اس معاہدے کے تحت علامہ طاہراشرفی پاکستان کے چاروں صوبوں سے فرقہ واریت کے خاتمے اورمتبادل بیانیے کے لیے مشاورت ،تربیت اورعمل درآمدکے حوالے سے خدمات فراہم کریں گے معاہدے کے تحت پاکستان کے جن علاقوں میں فرقہ وارانہ واقعات جنم لیتے ہیں وہاں فوری ردعمل کے طورپرمختلف مسالک کے علماء کرام پرمشتمل ٹیمیں بھیجی جائیں گی جوحالات میں بہتری کے لیے کام کریں گی اس معاہدے کے تحت علامہ طاہراشرفی آخری بارہ ماہ میں آگاہی مہم چلائیں گے اورجومتبادل بیانیہ تیارکیاجائے گا اس کی تشہیرکریں گے بیانیے کی تیاری میں جولوگ انتظامی طورپر شریک کارہوں گے ان کواعزازیہ دیاجائے گا معاہدے میں مزیدلکھاگیاہے کہ دونوں پارٹیوں کی رضامندی کے ساتھ معاہدے میں کمی بیشی کی جاسکے گی معلومات کوخفیہ رکھاجائے گا کسی بھی قسم کی معلومات دینے کے لیے آئی سی آرڈی سے باقاعدہ اجازت لیناہوگی معاہدے کے تحت پروجیکٹ کے لیے پنچاب میں اکتوبر2016میں آزمائشی ٹیم تیارکی جائے گی جودسمبر2016سے جولائی 2018تک متحرک رہے گی اگست 2017میں پروجیکٹ کے حوالے سے کارکردگی کاجائزہ لیاجائے گا اسی طرح اگست 2017کے بعد سندھ ،بلوچستان اورخیبرپختونخواہ میں بھی اسی طرح کی اضافی ٹیمیں تیارکی جائیں گی معاہدے کے تحت علم وامن فائونڈیشن کوپہلی قسط یکم اکتوبر2016کو 15ہزار700ڈالرکی قسط ملناتھی ، دوسری قسط یکم اپریل 2017کو12ہزار500 ڈالر،تیسری قسط یکم جولائی 2017کو 47ہزار200ڈالراورآخری قسط یکم جنوری 2018کو 14ہزار600ڈالرکی صورت میں اداکی جائے گی واضح رہے کہ کسی بھی پاکستانی مذہبی شخصیت کاانفرادی طورپرامریکیوں کے ساتھ یہ ایک بڑی ڈیل ہے ۔اس حوالے سے جب علامہ طاہراشرفی سے رابطہ کیاگیاتوانہوں نے کہاکہ آئی سی آرڈی سے میرارابطہ ضرورہے ان سے مختلف مواقعوں پربات چیت بھی ہوئی ہے مگریہ معاہدے کی جوکاپی چل رہی ہے اس پرمیرے دستخط نہیں ہیں ہم نے کوئی معاہدہ نہیں کیاہے یہ پروجیکٹ ہوناتھا مگرہم نے یہ پروجیکٹ مستردکردیاتھا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
63%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
13%
پسند ںہیں آئی
25%




آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved