2016۔صحت کے شعبہ کی ترقی کا سال
  10  جنوری‬‮  2017     |     پاکستان
تحریر:اخلاق علی خان آبادی کے لحاظ سے صوبہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق 12کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ صوبائی حکومت نے عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے اور بیماریوں کی روک تھام کے لئے وزیراعلی محمد شہبازشریف کی قیادت میں ملک کا بہترین سسٹم متعارف کروایاہے اوراس وقت صحت کے شعبے کی ترقی پورے ملک کے لئے ایک مثال ہے۔پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جہاں برصغیر کاسب سے بڑابچوں کاہسپتال (چلڈرن ہسپتال لاہور) کام کررہاہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے بچوں کی ایک عام بیماری سے لے کر دل کے امراض اور سرطان تک کا علاج میسرہے۔ جہاں پورے ملک سے بچے علاج کے لئے آتے ہیں۔پنجاب میں امراض قلب کے علاج کے لئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے علاوہ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی،فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی،ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور وزیرآباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی عوام کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کررہے ہیں اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھی امراض قلب کے شعبے قائم ہیں۔اگر 2016ء کے دوران پنجاب میں صحت کے شعبے میں ہونے والے انقلابی اقدامات او رکامیابیوں پر نظر ڈالی جائے تو صوبہ پنجاب کے لئے صحت کے شعبہ میں 2016انتہائی کامیاب سال رہا اور اس کی سب سے اہم اور بڑی کامیابی پولیو کے خلاف جدوجہد ہے جس کی براہ راست نگرانی وزیراعلی محمد شہباز شریف کرتے رہے ہیں۔وزیراعلی کی رہنمائی اور محکمہ صحت کے افسران و پولیو ورکرز کی محنت کے نتیجہ میں پنجاب پولیو سے پاک صوبہ بن گیا ہے اور 2016میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا حالانکہ دیگر صوبوں میں پولیو کے 19کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیگر صوبوں سے روزانہ پنجاب آتے جاتے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے ماحولیاتی نمونہ جات میں (جو سیوریج کے پانی سے لئے جاتے ہیں)۔نمونہ جات میں پایا جانے والا پولیو وائرس مقامی نہیں بلکہ اس کی مماثلت گڈاب کراچی سندھ یا کے پی کے میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے ہوتی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں پنجاب سے پولیو کاوائرس کبھی سرکولیٹ نہیں ہوا۔اسی طرح چیف منسٹر ہیلتھ روڈ میپ پروگرام پر عملدرآمد سے پنجاب میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی روٹین ایمونائزیشن کوریج پچاس فیصد سے بڑھ چھیاسی فیصد تک پہنچ گئی جس کی انٹرنیشنل پارٹنرز نے بھی تصدیق کی ہے۔پنجاب میں حاملہ خواتین اورنوزائیدہ بچوں میں پائی جانے والی بیماری تشنج کا خاتمہ کیا گیا جو نومولود بچوں اور حاملہ خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ تھی۔ 2016میں وزیراعلی پنجاب نے صوبے میں بچوں کو اسہال کی بیماری سے بچانے کے لئے روٹا وائرس ویکسین متعارف کرانے کی منظوری دی جس کا آغاز جنوری 2017 ء سے کیا جا رہاہے ۔اس ویکسین کے متعارف کروانے سے ہر سال ہزاروں بچے اسہال کی بیماری سے موت کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے او رپنجاب وہ واحد صوبہ ہوگا جہاں سے روٹا وائرس ویکسین کاآغاز کیا جا رہا ہے۔ صوبے میں پہلے نو بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکہ جات لگائے جاتے تھے اب ای پی آئی پروگرام میں دسویں ویکسین روٹا وائرس بھی شامل کی جا رہی ہے۔2016ء میں کڈنی سینٹر ملتان مکمل ہوا ۔اسی طرح سروسز ہسپتال کے نئے آؤٹ ڈورکی عمارت مکمل کی گئی ۔انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہورکا تیسرا فیز مکمل ہوا۔واہ کینٹ جنرل ہسپتال(ٹیکسلا) 200بیڈز پر مشتمل تعمیر شروع ہوئی۔جناح ہسپتال لاہو راور ملتان کے برن یونٹ مکمل کئے گئے۔ میوہسپتال کے سرجیکل ٹاورکو مکمل کرنے کے لئے 700 ملین روپے جاری کئے گئے اور فل فنڈنگ کی وجہ سے اس سرجیکل ٹاور کی 2017ء کیلنڈر ائیر میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیاہے۔اسی طرح ڈاکٹروں کی فلاح وبہبود کے لئے بہت سے انقلابی اقدامات کئے گئے۔ وزیراعلی نے ڈاکٹروں کے لئے تین ارب پچاس کروڑ روپے کا سپیشل الاؤنس پیکیج دیا۔وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے محکمہ صحت کے درجہ چہارم کے ملازمین کے سروس سٹرکچر کی منظوری دی ۔ نرسوں کو چار ہزار اور آٹھ ہزار روپے خصوصی الاؤنس کی منظوری دی گئی جس کا مالی حجم 2ارب روپے ہے ۔ادویات کی کوالٹی کو چیک کرنے کے لئے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری لاہور کو برطانیہ کے ادارے کے تعاون سے سٹیٹ آف دی آرٹ بنایا گیا۔اس کے علاوہ ملتان کی ڈی ٹی ایل کو ترکی کے ماہرین کے تعاون سے اپ گریڈ کیا جارہاہے۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ پر تیزی سے کام شروع ہوا چار ارب روپے فراہم کئے گئے۔2017میں پہلا فیز 3سوبستروں کا مکمل کرنے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیاہے ۔پی کے ایل آئی کی تکمیل سے جگر اورگردے کے مریضوں کے نہ صرف ٹرانسپلاٹیشن کی سہولت ہوگی بلکہ یہ ایک ریسرچ سنٹر بھی ہوگا جہاں امریکہ اور برطانیہ سے آئے ہوئے پاکستانی ڈاکٹرز خدمات سرانجام دیں گے۔پنجاب میں ویکسی نیٹرز کی حاضری کے لئے آئی ٹی سسٹم Evaccsمتعارف کروایا گیا جس سے حاضری چالیس فیصد سے بڑھ کر ستانوے فیصد تک پہنچ گئی۔حکومت نے ویکسی نیٹرز کو 26سو موٹرسائیکلیں فراہم کیں اور ویکسی نیٹرز کی پانچ سو آسامیاں پیدا کی گئیں۔ویکسین سٹوریج کے لئے لاہور اور ملتان میں سٹیٹ آف دی آرٹ ویئر ہاؤس قائم کئے گئے۔تمام ڈی ایچ کیو، ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں بائیومیٹرک سسٹم لگایا گیا جس سے سٹاف کی حاضری میں نمایاں بہتری آئی۔ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ساہیوال اور ڈیرہ غازیخان کے میڈیکل کالجز کے ساتھ پانچ پانچ سو بستروں پر مشتمل ٹیچنگ ہسپتالوں کی تعمیر کا آغاز ہوا ۔وزیرآباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ان ڈور مریضوں کا علاج معالجہ شروع ہوا اور انجیوگرافی کی سہولت فراہم کی گئی۔صوبے کے چالیس ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کی گئی جس پر پانچ ارب روپے سے زیادہ خرچ کئے جا رہے ہیں۔ میڈیسن کی خریداری کے لئے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم متعارف کرایا گیا اور ملٹی نیشنل و نیشنل فرموں کو پری کوالیفا کیا گیا۔صوبے میں جعلی وغیرمعیاری ادیات کی تیاری و فروخت کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کیاگیا۔ڈرگ کورٹ سے مختلف کیسوں میں ملزمان کو مجموعی طور پر 75 سال کی سزائیں اور 7کروڑروپے سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا۔طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ کی توسیع کی منظوری دی گئی جس میں مزید اڑھائی سو بستروں پر مشتمل بلاک تعمیر کیا جارہا ہے۔تمام ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی کا آغازہوا۔چلڈرن ہسپتال لاہور کا توسیعی منصوبہ مکمل ہونے سے ہسپتال میں چھ سو بستروں کا اضافہ ہوا جس سے نہ صرف بچوں کے علاج معالجے میں مزید آسانیاں پیدا ہوئی ہیں بلکہ آپریشنوں کے لئے ویٹنگ لسٹ میں بھی کمی آئے گی۔گورنمنٹ میاں میر ہسپتا ل لاہور کی تعمیر مکمل کی گئی۔گورنمنٹ شہباز شریف ہسپتال بیدیاں روڈ آپریشنل کیا گیا۔ گورنمنٹ سمن آباد ہسپتال تعمیر و آپریشنل کیا گیا۔یہ پیپرلیس ہسپتال ہے۔گورنمنٹ رانا عبدالرحمن ہسپتال سوڈیوال کوارٹرکا افتتاح ہوا۔وزیراعلی پنجاب نے سو بستروں پر مشتمل تحصیل لیول ہسپتال مناواں کا سنگ بنیاد رکھا۔چار ہزار نرسزپنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کی گئیں۔پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی ڈاکٹرز کے داخلوں کے لئے ٹرانسپیرنٹ اورمیرٹ پر مبنی آن لائن انڈکشن پروگرام متعارف کرایاگیا۔فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا بل اسمبلی سے پاس ہوا۔پنجاب بلڈٹرانسفیوژن اتھارٹی کے بارے میں قانون سازی کی گئی۔بیس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ایمونائزیشن کی تربیت فراہم کی گئی۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کے لئے چودہ ارب روپے فراہم کئے گئے۔گردے کے مریضوں کو ڈائلیسز کی سہولت فراہم کرنے کے لئے چھ سو ملین روپے فراہم کئے گئے۔ صوبے میں ماں بچہ کی صحت کو بہتر بنانے اور شرح اموارت پر قابو پانے کے لئے آٹھ سو بنیادی مراکز صحت پر چوبیس گھنٹے ڈلیوری کی سہولت فراہم کی گئی ان بنیادی مراکز صحت پر 24گھنٹے تربیت یافتہ عملہ اور لیبر روم کی سہولت فراہم کرنے سے یہاں ہونے والی زچگیوں کی تعداد دس ہزار سے بڑھ کر پینسٹھ ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ماں اور بچہ کی صحت کو یقینی بنانے اور شرح اموات میں کمی لانے کے لئے بہت اہم ثابت ہورہی ہے۔پنجاب میں چار بڑے ہسپتال جناح ہسپتال لاہور،الائیڈ ہسپتال فیصل آباد، بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی اور چلڈرن ہسپتال ملتان کی ری ریمپنگ کے منصوبہ پر کام کا آغاز کیا گیا۔ پنجاب میں صحت کے شعبے میں ہونیوالے انقلابی اقدامات اور عوام کو علاج معالجہ کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کے ویژن اور ہدایت کے مطابق دن رات کام جاری ہے او ر2016میں کئے گئے اقدامات کے حوالے سے ایک مختصر سا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو انشاء اللہ عوام کی آگاہی اور انہیں حکومتی اقدامات سے روشناس کرانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔حکومت کا یہ عزم ہے کہ 2017ء کو جاری منصوبوں کی تکمیل کا سال بنایا جائے گااور عوام کو نئے سال میں مزید بہترین طبی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved