پانامہ کیس کی سماعت کے دوران شیخ رشید نے ایسا کیا کہا کہ سپریم کورٹ میں قہقہے گونج اٹھے
  11  جنوری‬‮  2017     |     پاکستان
اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)’’شیخ رشید کے دلچسپ دلائل پر عدالت عظمیٰ میں بیٹھے افراد ہنسی پر قابو نہ پا سکے ، جج صاحبان نے قہقوں پر برہمی کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہوئے تو عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید نے روسٹرم سنبھال لیا اور کہا کہ نواز شریف پانامہ کیس میں براہ راست ملوث ہیں اور یہ مقدمہ 20 کروڑ عوام کا مقدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطری شہزادہ نواز شریف کیلئے ریسکیو 1122 ہے اور مین آف دی میچ ہے ، قطری خط محض ٹشو پیپر اور بیان حلفی کے بغیر ہے اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے، سنی سنائی باتوں کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا ، قطری خط رضیہ بٹ کا ناول ہے۔ عدالت میں قطری خط کو رضیہ بٹ کے ناول سے تشبیہ دینے پر قہقہے گونج اٹھے جس پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ سنجیدگی سے چلایا جائے۔شیخ رشید نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرا کوئی بچہ یا فیملی نہیں اور یہ قوم ہی میری فیملی ہے، یہ ایک خاندان بامقابلہ 20 کروڑ عوام کا کیس ہے اور شریف خاندان قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے جو الیکشن میں بھی ان کی سپورٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے دو افراد کو زیر کفالت ظاہر کیا اور وہ دو افراد ان کی اہلیہ اور مریم نواز ہیں۔ ایک طرف مریم نواز کہتی ہیں کہ ان کی آمدن نہیں تو دوسری طرف وہ امیر خاتون ہیں، عدالت سب کچھ جانتی ہے ہم تو صرف معاونت کیلئے آئے ہیں ، آپ نے انصاف دینے کا حلف لیا ہے اور عوام آپ کی جانب دیکھ رہی ہے

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved