سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر، منصوبے پر تمام صوبوں کے تحفظات دور ہو گئے وفاقی وزیر احسن اقبال کا "اوصاف" کو انٹرو یو
  12  جنوری‬‮  2017     |     پاکستان
اسلام آباد (انٹر ویو :حسیب حنیف ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان چائنہ اقتصادی راہدا ری کے لانگ ٹرم پلان کو 31ما رچ 2017تک حتمی شکل دے دیں گے سی پیک کے تحت ریلوے کو جدید خطوط پر استو ار کریں گے 2018تک سسٹم میں اضافی بجلی شامل ہو گی مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس میں سی پیک کے تخت روڈ انفر ا سٹرکچر کے تین دیگر منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے چھٹی جے سی سی کے بعد سی پیک کی لاگت 50ار ب ڈالر سے تجا وز کر گئی ہے اور سی پیک پر تمام صوبوں کے تحفظات دور ہو گئے ہیں وقت ثا بت کر ے گا کہ سی پیک کا یہ منصوبہ صر ف پاکستان کے لیے ہی نہیں اس خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا پانامہ معاملے میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوا ز شریف نے خو د کو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کیا یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مثال ہے تحریک انصاف کی طرف سے مسلسل یہ کوشش ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کریں سپریم کورٹ کسی کے جا رحانہ انداز ،دھرنے یاجلسوں سے متاثر ہو کر فیصلے نہیں دیتی شکر ہے عمران خان قائد اعظم کے ذمانے میں پیدا نہیں ہو ئے اگر آج قائد اعظم زند ہ ہو تے تو خدانخواستہ عمران خان نے انہیں بھی سپریم کورٹ کے کٹہرے میں کھڑا کر دینا تھا ہمیں کسی اپو زیشن جماعت سے خطرہ نہیں بلکہ ہم اپوزیشن کو اپنے لیے ایک اثاثہ سمجھتے ہیںآصف علی زر داری کو اسمبلی میں آ کر اپنا کر دار ادا کرنا چاہتے ہیں یہ ان کا جمہو ری حق ہے البتہ ہمیں کو شش کرنی چاہیے کہ آپس کی تلخیاں اس سطح پر نہ لے جائیں کہ ہم 90کے عشرے میں چلے جائیں میثاق جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے ملک میں صحت مند جمہوریت اور مثبت تنقید کو فروغ دینا چاہیے پاکستان اپنے دفاعی معاملات میں خو د کفیل اور بھا رت کے ہر جا ر حانہ اقدام کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے" اوصاف" کو دیے گئے خصوصی انٹر ویو کے دوران کیا انہوں نے کہاکہ سی پیک پاکستان کے لیے تا بناک اور گیم چینجر منصوبہ ہے اس منصوبے کے نتیجے میں پاکستان کو اس خطے میں مرکزی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور ہم پاکستان کے محل وقوع کو ملکی معیشت سے جو ڑ نے میں کامیا ب ہو جائیں گے ماضی میں ہم نے پاکستان کے محل وقو ع کو اس خطے میں مختلف جنگوں کے لیے استعمال کیا لیکن کبھی اسے پاکستان کی معیشت کے لیے استعمال نہیں کیا اب سی پیک کے نتیجے میں یہ امکان پید ا ہو ا ہے کہ پاکستان ، جنو بی ایشیا ء ، چین اور وسطی ایشیا ء جس کی آبادی 3ارب کی ہے ان کا رابطے کا ایک پل بن سکا ہے اس ضمن میں جو ہما را پہلا مر حلہ تھا ا س میں ہم نے اس بات پر توجہ دی کہ پاکستان کے توانائی کے بحران کو حل کیا جائے چونکہ اتنا بڑا منصوبہ ہم نے کامیا ب کرنا ہے تو اس کے لیے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانا اور اس کی صلاحیت میں اضافہ کرنا بے حد اہمیت رکھتا ہے جس معیشت میں توانائی نہیں ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی انسان آ کسیجن کے بغیر زند ہ ہو تو اسی لیے پہلے مرحلے میں توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی اور 35ارب ڈالر کی سر مایہ کا ری کے منصوبے توانائی کے شامل کیے گئے اب ان منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے سی پیک منصوبوں کی وساطت سے اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان نہ صر ف اپنی توانائی کی ضروریات کو 2018تک پورا کرلے گا بلکہ مستقبل کے لیے بھی ہم اپنی ضروریا ت کے لیے فاضل توانائی پید اکرنے میں کامیا ب ہو جائیں گے 29دسمبر 2016کو چھٹی تعاون کمیٹی کے اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلی کو مد عو کیا اس اجلا س کے دو پہلو بہت اہم ہیں پہلی بات یہ کہ اس موقع پرجو ہما ری قومی یکجہتی اور اتفاق رائے دیکھنے میں آیا اس نے سی پیک کو نئی تقویت دی اور تمام صوبوں کے وزرائے اعلی اور حکومتوں نے سی پیک منصوبوں کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس کے لیے بھر پورتعاون کا یقین بھی دلایا جس سے چینی سر مایہ کا روں اور چینی حکومت کو بھی بہت اعتماد اور حوصلہ ملا اسی طرح ملک کے اندر بھی پاکستان کے عوام نے اطمنان کا سانس لیا دوسرے مرحلے میں اس میٹنگ میں سی پیک کو صنعتی تعاون کے مرحلے میں داخل کیا ہے اور صنعتی تعاون کی بنیا د رکھی گئی ہے ملک میں 9صنعتی زون قائم کرنے پر اتفاق ہو ا ہے جس میں ایک ایک زون ہر صوبے ایک آزاد کشمیر ،گلت ،فاٹا اور دو وفاقی حکومت کے صنعتی زون ہوں گے ان کے ذریعے پاکستان اور چین کا تعاون صنعتی شعبے میں داخل ہو گا ہم چین سے صنعتی شعبے میں سر مایہ کا روں کو پاکستان کی طرف راغب کریں گے اس سے نہ صرف پاکستان کی صنعتی پید ا وار میں اضافہ ہو گا بلکہ بر آمدات میں بھی اضافہ ہو گا اور لا کھوں کی تعداد میں نیا روزگار مستقبل میں پیدا ہو گا اسی بنیاد پر پاکستان کی معیشت مستقبل میں کامیا بی سے آگے بڑھ سکتی ہے چین کے ساتھ جتنے بھی منصوبے چل رہے ہیں اس میں چینی کمپنی کی کوشش ہو تی ہے کہ وہ پاکستان کے انجینئر اور مقامی مزدور کو موقع فراہم کرے اور ابھی بھی ہما رے موجو دہ چین کے پراجیکٹ میں آدھے سے زیا دہ تعداد پاکستانی ورکر اور انجینئر ز کی ہے چونکہ یہ منصوبے ای پی سی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اس میں جو کنٹریکٹر ہے وہ اگر وقت مقررہ پر پراجیکٹ مقرر نہ کرے تو اسے جرمانہ عائد ہو تا ہے لہذاوہ بر وقت اپنا کامکمل کرنے کے لیے مخصو ص تعداد میں اپنے انجینئر ز لاتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہدا ری منصوبے پرجے سی سی نے سی پیک لانگ ٹرم پلان کو 31مارچ 2017تک حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے اس پلان کی منظوری کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ باقاعدہ مشاورت ہوگی اس پلان کی وجہ سے سی پیک کو نئی سمت و منزل اور 2030تک توسیع ملے گی جس سے زراعت، سیاحت، میڈیا اور دیگر سماجی و معاشی شعبوں کی ترقی ممکن ہوسکے گی ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک میں ریلوے کا منصوبہ شامل کرنے کے بعد یہ 50ارب ڈالر سے تجا وز کرچکا ہے اب اس میں جو نئے منصوبے شامل ہوئے ہیں ان سب کی فزیلٹی سٹڈیز مکمل ہوں گی اور جب ان کی ٹیکنیکل اور فزیلبٹی سٹڈیز مکمل ہو ں گی تب ہی حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جے سی سی کے بعدمنصوبے کی لاگت میں کتنا اضافہ ہو ا لیکن میرے اندازے کے مطابق 5سے 7ارب ڈالر اس میں مزید اضافہ ہو سکتاہے پانامہ کیس اب عدالت میں ہے اس پر زیا دہ بحث نہیں کرنی چاہیے حکومت اور وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ پر اعتماد ہے وزیر اعظم نے خود کو اور اپنے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کیا یہ پاکستان کی پہلی مثال ہے اس سے پہلے کسی میں اتنی جرات نہیں ہو ئی جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے مسلسل یہ کوشش ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کریں مسلسل جلسے اور جا رخانہ پریس کانفرنس کر کے وہ سپریم کورٹ کو د باؤ میں لاناچاہ رہے ہیں جو کہ ممکن نہیں ہے سپریم کورٹ کسی کے جارخانہ انداز یا دھرنوں سے متاثر ہو کر فیصلے نہیں دیتی وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے لہذا یہ ایک غلط مثال عمران خان قائم کررہے ہیں کل کو جس کا سپریم کورٹ میں مقدمہ چلے گا وہ عوامی دباؤ کا راستہ اختیار کر کے عدالتوں پر د باؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا ہم ایک مضبوط اپوزیشن کا خیر مقدم کرتے ہیں جمہو ر یت اپوزیشن کے بغیر مکمل نہیں ہو تی اور اگر اپوزیشن اپنا کر دار ادا کر تی ہے تو اس سے حکومت کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ خو د کو چست رکھے اور اپنی خامیوں کو درست کرے ہمیں کسی اپو زیشن جماعت سے خطرہ نہیں بلکہ ہم اپوزیشن کو اپنے لیے ایک اثاثہ سمجھتے ہیں آصف علی زرداری پاکستان آئے ہیں انہیں پاکستان میں ہی ہونا چاہیے تھا لہذا ان کا پاکستان آ جا نا کوئی عجیب بات نہیں ہے اگر وہ اسمبلی میں آکر اپنا کر دار ادا کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا جمہوری حق ہے البتہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ آپس کی تلخی اس سطح پر نہ لے کر جائیں کہ ہم 90کے عشرے میں چلے جائیں ہمیں میثا ق جمہو ریت کے دائرہ کا رکے اندر رہتے ہوئے ملک میں صحت مند جمہوریت اور مثبت تنقید ہو فروغ دینا چاہیے سی پیک خالصتا اقتصادی منصوبہ ہے جس میں کسی قسم کے فوجی مقاصد شامل نہیں سی پیک کا مقصد خطے میں خو شخالی کو فروغ دینا ہے اور امن استحکام کو مضبوط کرنا ہے البتہ پاکستان اپنے دفاعی معاملات میں خو د کفیل ہے اور بھا رت کے ہر جا رخانہ اقدام کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہم کسی بھی صورت اپنے دفاعی تقاضوں سے غا فل نہیں رہیں گے 2017کا سورج پاکستان کے لیے نئے امکانا ت لے کر طلو ع ہو رہا ہے پچھلے 3سالوں میں حکومت نے بہت محنت کے ساتھ پاکستان کے چہرے پر جو دہشتگر د ی بد امنی اور لو ڈ شیڈنگ کے دھبے لگے ہوئے تھے انہیں صاف کیا ہے وہی پاکستان جسے دنیاں خطرناک ترین ملک قرار دیتی تھی اب اسے ایک ابھر تی ہوئی معیشت قرار دیا جا رہا ہے یہ اصل تبدیلی ہے اور ہما رے مخالفین اسی بات سے خو ف ز دہ ہیں وزیر اعظم نے بر آمدات کے لیے 180ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا اس تقریب میں بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی پالیسیوں کو دل کھول کر خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف حکومت اپنے ڈیڑھ سال کو وقت پورا کرے بلکہ اگلے پانچ سال بھی انہی پالیسیوں کو تسلسل چاہیے تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں ایشین ٹائیگر بنے یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے ثمرات سمیٹ رہی ہے عمران خان کو تو کچھ اچھا نظر نہیں آ تا شکرہے کہ عمران خان قائداعظم کے ذمانے میں پیدا نہیں ہو ئے یا قائد اعظم ان کے ذمانے میں نہیں ہیں خدانخواستہ اگر آج قائد اعظم زند ہ ہو تے تو عمران خان نے قائد اعظم کو بھی سپریم کورٹ کے کٹہرے میں کھڑا کر دینا تھا احسن اقبال نے چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کی چھٹی جے سی سی پر بات کر تے ہوئے بتایاکہ چھٹی جے سی سی میں سی پیک کے تحت جاری توانائی ، انفراسٹرکچر، گوادر اور دیگرمنصوبوں پرہونے والی پیش رفت پر اطمینان بخش ہے سی پیک میں نئے منصوبوں کی شمولیت سے کل مالیت 50 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گی وفاق اور صوبے ایک پیج پر ہیں صوبوں کے تمام تحفظات دور کردیے گئے ہیں سی پیک کے تحت توانائی کے شعبے میں 8ہزار میگا واٹ کے منصوبے شامل ہیں اگلے سال پاکستان میں 10ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گریڈ میں شامل ہوگی جس میں پانچ ہزار میگا واٹ سی پیک منصوبوں سے آئے گی جے سی سی نے مٹیاری لاہور اور مٹیاری فیصل آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی منظوری اور فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اس ٹرانسمیشن لائن کے زریعے ملک کے جنوب میں پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گریڈ میں شامل ہوسکے گی جس کے بدولت پاکستان کا ایک دیرینہ مسئلہ حل ہوگاپاکستان اور چین نے ملک کے شمال میں بجلی کے دیگر منصوبوں باالخصوص دریائے سند ھ پر پن بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے طریقہ کار وضح کرنیکا فیصلہ کیا ہے دریائے سندھ پر پن بجلی کے اہم منصوبوں پرکام آگے بڑھانے کیلئے دونوں مماملک کے ماہرین فروری میں دوبارہ مذاکرات کریں گے دریائے سند ھ پر پن بجلی کے ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جس پر صوبوں کے مابین اتفاق موجود ہے جے سی سی میں گلگت بلتستان میں بجلی لوڈ شیڈنگ پر بات ہوئی اور اس کو فوری طور پر حل کرنے کی تجویز دی گئی، وزیر اعلی گلگت بلتستان کی جانب سے پن بجلی کے دو منصوبوں کی تجویز دی گئی ہے جس پر فروری میں مزید مذاکرات ہوں گے جے سی سی نے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے دو بڑے منصوبوں ملتان سکھر موٹر وے اورقراقرم ہائی وے کے حویلیاں تھاکوٹ سیکشن کو سی پیک کیلئے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس پر کام کی رفتار اور اس ضمن میں پاکستانی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سیکیورٹی و دیگر انتظامی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیاجے سی سی نے روڈ انفراسٹرکچر کے تین دیگر منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے اس کی فوری فنانسنگ کیلئے متعلقہ اداروں کو تمام کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت جاری کردی ، منصوبوں میں سی پیک روٹ پر قراقرم ہائی وے تھاکوٹ تا رائی کوٹ136کلومیٹرشاہراہ کی بحالی، بلوچستان کے عوام کیلئے اہم منصوبے خضدار بسیمہ شاہراہ اورمغربی روٹ پر ڈیرہ اسماعیل خان ژوب روڈ کی اب گریڈیشن کا منصوبہ شامل ہے جے سی سی نے مغربی روٹ پر گوادر سوراب650کلومیٹر شاہراہ کو فعال بنانے اور ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے پر جاری کام کی رفتار کو خوش آئند قرار دیا اور مغربی روٹ پر چین سے گوادر تک ٹریڈ کانوا ئے کی کامیابی سے پہنچنے پر تعریف کی انہوں نے بتایاکہ جے سی سی نے صوبوں کی جانب سے بھیجے گئے اہم منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے پر اصولی اتفاق کیا صوبائی منصوبوں میں سندھ کی جانب سے کیٹی بندر سی پورٹ ڈیولپمنٹ کا منصوبہ، بلوچستان کی جانب سے نوکنڈی ماش خیل پنجگور روڈ کا منصوبہ ،خیبر پختونخوا کی جانب سے گلگت ،شندور، چترال سے چکدرہ سی پیک لنک روڈ اورکشمیر کیلئے میر پور ، مظفر آباد ،مانسہر روڈ کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے پٹ فیڈر کنال سے کوئٹہ واٹر سپلائی سکیم اور سٹیل میل کمپلیکس چینوٹ کی فزیبلٹی پر کام شروع کرنے پر غور کرتے ہوئے دونوں منصوبے متعلقہ جائنٹ ورکنگ گروپس کو ریفر کردیے گئے گوادر بندرگاہ کی استطاعت بڑھانے کیلئے گوادر اپ گریڈیشن منصوبے بھی شامل ہیں انٹرو یو کے موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال کے ہمراہ ان کے میڈیا کوآ ر ڈینیٹر سعد بن ایوب بھی موجود تھے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved