اس جج کو تو مسجد میں ۔۔۔! عدالہت کی جانب سے ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگانے والے جج کے بارے میں عاصمہ جہانگیر نے ساری حدیں پار کر دیں 
  15  فروری‬‮  2017     |     پاکستان
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب میں بسنت کی اجازت نہ ملنے اور ویلنٹائن ڈے منانے پر عدالتی پابندی کو بہت سے لوگوں نے جہاں سراہا وہیں ملک کی کچھ اہم شخصیات نے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔حکومت اور عدالت کے ان فیصلوں کو ہدف تنقید بنانے والوں میں معروف قانون دان عاصمہ جہانگیربھی شامل ہیں جن کو ان کی تنقید پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس وقت خفت اور عجیب حالات کا سامنا کرنا پڑ گیا جب انہوں نےاپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت اور عدالت کے فیصلوں کو تنقید کی تو جواب میں ان کے پیغام پر ایک صارف نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے ان کی بیٹی نمبر ہی مانگ لیا تاہم عاصمہ جہانگیرنے بھی پھر ایسا جواب دیا کہ آپ کی ہنسی نہ رکے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں پتنگ بازی پر لوگوں کی گرفتاری اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”ہوشیار! پرامن پاکستانی پتنگ بازی پر گرفتار ہوں گے، ہائیکورٹ نے ویلنٹائن ڈے منانے سے بھی منع کر دیا ہے۔۔۔ بس آپ اگلے دھماکے کا انتظار کریں۔“ عاصمہ جہانگیر کے اس ٹویٹ پر ایک ٹوئٹر صارف نے جواب دیا کہ ”برائے مہربانی مجھے اپنی بیٹی کا نمبر دیدیں، میں انہیں ویلنٹائن ڈے کی مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔“ عاصمہ جہانگیر نے ٹوئٹر صارف کے اس جواب کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے خوشگوار موڈ میں جواب دیا کہ ”پہلے مجھے تو مبارکباد دیدو۔“صارف بھی پیچھے رہنے والوں میں سے نا تھا اور فوراً جواب دیا کہ ”ہیپی ویلنٹائن ڈے آنٹی جی! “ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد دلا دیا کہ میں آپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں مگر فون نمبر کیساتھ۔واضح رہے کہ اس سے قبل عاصمہ جہانگیر کا لاہور ہائیکورٹ کے ویلنٹائن ڈے پا پابندی کے فیصلے پر ایک بیان سامنا آچکا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق نہیں دیا گیا ، جج صاحب کو عدالت نہیں بلکہ مسجد میں خطیب ہونا چاہئے تھا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved