بلاگرز کی حقیقت سامنے آگئی
  17  فروری‬‮  2017     |     پاکستان
اسلام آباد (روز نامہ اوصاف) میں تقریباً ڈیڑھ سال پہلے فیس بک پر “بھینسا” نامی پیج سے متعارف ہوا تھا اور اس کی پوسٹ دیکھی تو سمجھا تھا کہ یہ پیج پاکستان کے سیکولر،لبرل افراد چلا ریے ہیں جو کہ ملک میں بڑھتی مذہبی جنونیت کے خلاف ہیں اور سیاست سے مذہب کے کردار کو بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔یہ باقاعدگی کے ساتھ مختلف علماء کے وڈیو کلپس چلاتا تھا جس میں وہ خطیب مخالف فرقے کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرتے تھے، میں سمجھا کہ یہ لوگ تفرقے سے بھی بیزار ہیں جو کہ اچھی بات تھی ساتھ ساتھ یہ جنرل ضیاءالحق،مشرف ،جنرل پاشا وغیرہ کے خلاف بھی پوسٹ کرتے تھے میں سمجھا شاید یہ جمہوریت اور آئین کی محبت میں ایسا کررہے ہیں مگر ہفتہ یا دس دن بعد ہی میں نے اس پیج کو “UNLIKE” کر دیا وجہ اس کی ایک پوسٹ بنی جس میں آپ ﷺ کی صریح الفاظ میں توہین کی گئی اور آپ ﷺ کے ذریعہ معاش کے بارئے میں ایک توہین آمیز وڈیو بنائی گئی۔میں سمجھ گیا کہ اس پیج کا مقصد اپنے نظریے کا پرچار ہرگز نہیں بلکہ صرف اور صرف اسلام کی توہین و تضحیک کرنا ہے اور فوج کے خلاف ان کی باتیں ایک طے شدہ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں یہ لوگ کسی طرح بھی اس قابل نہیں کہ ان کی بات پر دھیان دیا جائے -آج کل کی اہم ترین خبروں میں کچھ لوگوں کی گمشدگی جن میں بھینسا پیج کا ایڈمن بھی مبینہ طور پر شامل ہے ۔ان کی گمشدگی پر لبرل ازم کے علمبردار مظاہرہ کررہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے کوئی قانون نہیں توڑا اور انھیں صرف آزادی اظہار کرنے پر اٹھا لیا گیا ھے اور وغیرہ وغیرہ۔۔میں سمجھتا تھا کہ یہ مظاہرین ملک کے پڑھے لکھے لوگ ہیں مگر اس مظاہرے اور ان کی رہائی پر دی گئی منطق نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ یہ لوگ رائے کی آزادی اور تضحیک کے درمیان فرق کو ہی نہیں جانتے۔اور سب سے زیادہ دکھ ان مظاہرین میں ڈاکٹر ہودبھائی کو دیکھ کر ہوا جو کہ ملک کے صف اول کے سائنس دان ہیں،جن کی ذہانت اور قابلیت سے انکار ناممکن ہے ہاں ان کے سیاسی نظریات سے مجھے بھی اختلاف ہے مگر میں سمجھتا ھوں کہ پاکستان کا ایک آزاد اور اہم فرد ھونے کے ناطے یہ ان کا حق ہے مگر کیا وہ بھی آزادی اظہار اور آزادی توہین میں فرق نہیں کرسکتے؟؟؟۔ اور پھر ان حضرات کا یہ کہنا کہ ان کو اپنی بات کہنے سے روکا گیا ہے تو گذارش ہے کہ ان کی رائے کیا تھی؟؟؟ 1.کیا ملک کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے؟ 2.کیا وہ سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف تھے؟ اگر یہ بات ہے تو ان کا مقدمہ بے وزن ہے کیونکہ ایسے افراد پاکستان میں سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں جن کی یہ ہی رائے ہے اور وہ آزادی سے ملک میں گھومتے ہیں اور ببانگ دیل اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ویسے ایجنسیوں نے اگر یہ کاروائی کی ہے تو اس میں کافی تاخیر کی گئی ہے اور اگر پکڑے گئے افراد واقعی وہ ہی ہیں جنہوں نے توہین مذہب اور توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور پھر فوج کی ایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت کردار کشی کی ہے تو ان کے خلاف بھرپور کاروائی ہونی چاہیے اور ان کو سزا ملنی چاہیے ،اگر قانون کے مطابق ان کو سزا دینا ممکن نہیں ہے تو ملک اسحاق کے کیس کو مدنظر رکھتے ھوئے کوئی خلاف معمول کاروائی کرنی پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ توہین کا ہے تنقید کا نہیں-

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
70%
ٹھیک ہے
30%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 





آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved