حکومت نے حاجی کیمپ لاہورنیلام کرنے کااعلان کردیا
  20  مارچ‬‮  2017     |     پاکستان
اسلام آباد(عمرفاروق سے )متروکہ وقف املاک نے حاجی کیمپ لاہورکونیلام کااعلان کردیاہے 1999 سے مجیٹھیا ہال میں حاجی کیمپ قائم ہے جہاں سے نہ صرف حاجی سفرپرروانہ ہوتے تھے بلکہ یہاں حاجیوں کی تربیت بھی کی جاتی تھی وزارت مذہبی امور19کنال11مرلے پر مشتمل حاجی کیمپ کا کرایہ تقریبا چار لاکھ روپے ماہانہ محکمہ متروکہ وقف املاک کو ادا کررہے ہیں متروکہ وقف املاک کے اس اقدام سے 2107میں لاہوروگردونواح کے حاجی مشکلات کاشکارہوسکتے ہیںتفصیلات کے مطابق متروکہ وقف املاک نے نئی حج پالیسی آنے سے چنددن قبل حاجی کیمپ لاہورکونیلام کرنے کااعلان کردیاہے جس سے وزارت مذہبی امورکے اعلی حکام سرجوڑکربیٹھ گئے ہیں متروکہ وقف املا ک نے یہ اقدام اچانک کیاہے اورسیکرٹری مذہبی امورجومتروکہ وقف املاک کے مالیاتی امورکے انچارج بھی ہوتے ہیں انہیں بھی اس فیصلے سے لاعلم رکھا گیاہے اخبارات میں حاجی کیمپ کی نیلامی کااشتہارجاری کردیاہے متروکہ املاک بورڈ کی طرف سے شائع ہونے والے اشتہار کی جس میں کہا گیا ہے متروکہ املاک بورڈ نکلسن روڈ پر واقع19کنال اور 11 مرلے پر محیط مجیٹھیا ہال کو 30سالہ لیز پر نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ عمارت کافی عرصے سے حاجی کیمپ دارالحجاج کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، اشتہار شائع ہوا تھا کہ 9مارچ،16مارچ اور 23مارچ کو نیلام عام ہو گا۔ 9مارچ کو اچانک نیلام عام ملتوی کر دیا گیاتھا اور16مارچ کوبھی یہ نیلامی نہیں ہوسکی ہے ذرائع کاکہناہے کہ مذکورہ جگہ جگہ نیلام کرکے ایک بڑاپلازہ بنایاجارہاہے ذرائع کاکہناہے کہ اس حوالے سے سیکرٹری مذہبی امورنے متروکہ وقف املاک کے چیئرمین صدیق الفاروق سے رابطہ کرکے معاملہ حل کرنے کی پیش کش کی ہے متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری میاں عبدالقدیر صاحب سے رابطہ کرنے پربتایاکہ اس حوالے سے گزشتہ دو سال سے بات چل رہی تھی، سابق سیکرٹری سہیل عامر مرزا کے دور میں فیصلہ ہو گیا تھا۔ متروکہ املاک کی پراپرٹی ہی ہمارے شعبہ کی آمدن کا ذریعہ ہیں ہم اپنی پراپرٹی کی مناسب دیکھ بھال اور کرایہ داری کے لئے اقدامات کرتے رہتے ہیں، لیز پر دینا یا نہ دینا بورڈ کا استحقاق ہے۔ عرصہ سے حاجی کیمپ نے اس عمارت کو کرایہ پر لیا ہوا ہے آئینی طور پر منیارٹی کی بلڈنگ کا کرایہ مسلمانوں پر خرچ نہیں ہو سکتا، مگر عرصہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ دوسری طرف وزارت مذہبی امورنے قریب واقع متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیرانتظام چلنے والے عائشہ ڈگری کالج کو عارضی طور پر حاجی کیمپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اشتہار کی اشاعت کے بعد عائشہ ڈگری کالج کی طالبات نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور محکمہ کا فیصلہ مسترد کردیا اور سوال کیا کہ کیا حج آپریشن کے دوران 3ماہ کالج بند رہے گا توہماری تعلیم کاحرج ہوگا واضح رہے کہ 1990 میں لاہور حاجی کیمپ عارضی طور پر گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن لاہور کینٹ میں بنایا گیا۔1993 تک اللہ کے مہمان حجاز مقدس وہاں سے روانہ ہوتے رہے۔ پھر1994 میں جامعہ منظور الاسلام میں حاجی کیمپ منتقل ہو گیا۔1995 سے 1998 تک حضوری باغ بادشاہی مسجد میں حاجی کیمپ قائم رہا۔ اوربالآخر 1999 سے مجیٹھیا ہال میں حاجی کیمپ قائم ہے سابق سیکرٹری مذہبی اموروکیل احمدخان نے اپنے دورمیں حاجی کیمپ متبادل جگہ پرقائم کرنے کی کوشش کی تھی مگروہ کامیاب نہیں ہوسکی تھی ۔دوسری حج2017 کے آپریشن کے لئے کام کا آغاز ہو چکا ہے چند ہفتوں بعد حج آپریشن شروع ہو رہا ہے متروکہ وقف املاک کے اس اقدام سے حج آپریشن متاثرہوسکتاہے اورحاجی بھی خوارہوسکتے ہیں ۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved