بے شرم الیکٹرانک میڈیا نے مشال قتل پر کیا موقف اپنائے رکھا ہے؟
  20  اپریل‬‮  2017     |     پاکستان

اسلام آباد (روز نامہ اوصاف) بعض ایسے بدبخت اور ذلیل لوگ یہاں بھی پائے جاتے ہیں ۔ صرف اس لئے کہ ہمارے ہاں قانون کی بالادستی کا فقدان ہے ۔ جیسے عدالتوں میں توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے کے بعد حقیقی گستاخ کو ملنے والی سزا پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ایسے ہی توہین رسالت یا توہین مذہب کا جھوٹا الزام عائد کرنے والے کسی بدبخت کو بھی آج تک یہاں سزا نہیں دی گئی۔امام کعبہ جسٹس صالح بن محمد ابراہیم کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والوںکے دل میں بیماری ہے ۔یہ لوگ جان بوجھ کر دین کا غلط استعمال کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں ملتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے 'میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں و ہ خود کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے اگر سیدھا راستہ ان کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریںگے ' اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے (اعراف146) ہم ان لوگوں کو بے لگام چھوڑ دیں کہ جو ' نبی اکرم ۖ کی ناموس پر حملہ کرکے یا صحابہ کرام کو برا بھلا کہہ کر مسلمانوں کو اذیت دیتے رہیں؟ ہمیں چاہیے کہ اپنی مقدسات ' عقیدے اور اصول و اقدار کی حفاظت کے لئے سخت سے سخت فیصلہ کریں۔ امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب نے اپنے انٹرویو میں توہین رسالت، یا توہین مذہب کا غلط الزا م لگانے والوں کے علاوہ ناموس رسالت اور مقدسات پر حملہ آور ہونے والے شیطانوں سے بھی اسلام اور مہذب مسلمانوںکونمٹنے کا سیدھا سیدھا اصول بتا دیا ہے ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ان اصولوں پر نہ حکومتی سطح پر ' نہ میڈیا کی سطح پر نہ دانشوروں کی سطح پر 'نہ ہی عوام کی سطح پر کہیں بھی عمل نہیں ہو رہا ہے۔ جب حکمران توہین رسالت کے معاملے پر یورپین طرز عمل کو اختیار کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر مردان یونیورسٹی جیسے افسوسناک واقعات روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ سوشل میڈیا ہو زبان سے ہو یا تحریر سے جو کوئی بھی توہین رسالت یا توہین مذہب کا ارتکاب کرے اسے فی الفور گرفتار کرکے عبرت کانشان بنائے۔مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام میں قتل کیے جانے والے مشعال کے معاملے پر بھی میڈیا،سیاست دانوں،حکمرانوں یا عالمی طاقتوں سے متاثر ہوئے بغیر اگر انتہائی غیر جانبدارانہ انداز میں تفتیش کرکے اصل صورتحال کا کھوج لگالیا گیا تو دوررس نتائج برآمد ہوں گے جو ملک و قوم کے حق میں بہتر ہیںلیکن آئی جی خیبرپختونخوا نے گستاخانہ مواد کے حوالے سے مقتول مشعال کو جس طرح سے کلین چٹ دی ہے اس سے مشعال کیس مزید الجھتا ہوا نظر آرہا ہے ۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے نوجوانوں کا تعلق ' بیت اللہ سے مضبوط بنانے کرنے کی کوشش کرے جب حکومت اور قوم کا تعلق بیت اللہ سے جڑ جائے گا تو پھر امام کعبہ کے بیانات بھی ان کے دلوں پر اثر کریں گے حکومت فحاشی ،عریانی ،بے حیائی، سود جیسی موذی بیماریوں سے اس ملک و قوم کی جان چھڑائے تاکہ اسلام سے تعلق مزید مضبوط ہو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
91%
ٹھیک ہے
9%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved