سونو نگھم کے بعد طارق فتح لعین نے بھی فجر کی اذان کیخلاف زبان کھول دی
  21  اپریل‬‮  2017     |     پاکستان
نئی دہلی (ویب ڈیسک) مودی سرکار کی ”پناہ “ میں اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگلنے والے پاکستانی نژاد کینڈین ادیب طارق فتح کا زہر کم نہیں ہوا ہے اور اس مرتبہ انہوں نے بھارتی گلوکار سونونگم کی پیروی کرتے ہوئے فجر کی اذان کے بارے میں ایسا بیان دیدیا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سونو نگم نے اپنے بیان میں فجر کی اذان کو ”غنڈہ گردی“ قرار دیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ایک مولوی کی جانب سے سر مونڈنے پر دس لاکھ روپے انعام کے بعد انہوں نے ناصرف خود اپنا سر مونڈھ لیا بلکہ اپنے بیان کے بارے میں وضاحت بھی پیش کی جو کسی کام نہ آئی۔ اب پاکستان کا غدار صحافی طارق فتح بھی سونو نگم کی حمایت میں سامنے آ گیا ہے اور سوشل میڈیا ویب سائٹ ”ٹوئٹر“ پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ ”تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو سونو نگم۔۔۔! خدا کا شکر ہے کہ بھارت میں کم از کم ایک فرد تو ایسا ہے جو ملا کی غنڈہ گردی کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ صبح 4 بجے کی اذان بند کی جائے۔طارق فتح کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد بھارت کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہو گئے ہیں اور سونو نگم کیساتھ ساتھ اب اسے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل طارق فتح کو نیوزپر ”فتح کا فتویٰ“ نامی پروگرام جمعۃ المبارک کو دیئے جانے والے فتویٰ کو ناجائز اور حرام قرار دیا تھا جس پر لوگوں میں طارق فتح کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور بریلی کے مسلمانوں کی مشہور تنظیم ”آل انڈیا فیضان مدینہ کونسل“ نے طارق فتح کی اس ہرزہ سرائی کے خلاف اس کا سر قلم کرنے والے شخص کے لئے 10لاکھ 786روپے کا انعام بھی مقرر کیا۔ آل انڈیا فیضان مدینہ کونسل کے صدر معین صدیقی نوری کا کہنا تھا کہ یہ شخص اکثر اسلام کے خلاف بولتا ہے ،جس پر ہماری تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے فوری طور پر بھارت سے باہر نکال دینا چاہئے ،طارق فتح اسرائیل کا ایجنٹ ہے ،مودی حکومت نے بلا وجہ اسے بھارت میں پناہ دے رکھی ہے ،طارق فتح نے ہمیشہ اسلام اور اسلامی احکامات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ بھارتی پنجاب یونیورسٹی میں ایک سکھ طالب علم کو خالصتانی اور ایک کشمیری طالب علم کو پاکستانی دہشت گرد کہنے پر طلباءکے ہاتھوں بھی طبیعت صاف کروا چکے ہیں۔ انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے ایک پی ایچ ڈی سکالر گگندیپ سنگھ ڈھلوں کا کہنا تھا کہ وہ فزکس کی کینٹین میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران طارق فتح آگیا اور گفتگو شروع کردی۔ گفتگو کے دوران ڈیپارٹمنٹ کا لائبریرین بھی کینٹین میں آگیا جس پر تمام طلبا احتراماً کھڑے ہوگئے جو طارق فتح کو ناگوار گزرا اور کہنے لگا کہ وہ تو اپنے باپ کیلئے بھی کھڑا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد طارق فتح نے مجھے ’ خالصتانی‘ اور میرے کشمیری دوست کو ” اوئے گوری چمڑی، تم پاکستانی دہشت گرد ہو“ کہہ کر مخاطب کیا جس کے بعد طلبہ کا پارہ چڑھ گیا اور اس شخص کی طبیعت صاف کردی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
50%



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved