پاکستان کے بڑے صوبے میں مقامی زبان بولنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہو گئی۔۔۔مردم شماری کے حیران کن نتائج
  12  ستمبر‬‮  2017     |     پاکستان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) گذشتہ 19 سالوں کے دوران بلوچستان کے 21 اضلاع میں بلوچی بولنے والے افراد کی تعداد میں کمی جبکہ 9 پشتون اکثریتی اضلاع میں آبادی میں کوئی اضافہ سامنے نہیں آسکا۔مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی مجموعی اوسط آبادی میں قومی اوسط 2.4 فیصد کی نسبت کہیں زیادہ اضافہ ہوا، اور بلوچستان میں اضافے کی شرح 3.37 فیصد رہی۔اعداد و شمار کے مطابق آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ وفاقی دارالحکومت میں 4.91 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے اب تک 25 اگست کو جاری ہونے والے مردم شماری کے نتائج پر سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان نتائج پر قوم پرست افراد کا کوئی تبصرہ سامنے آیا ہے۔

مردم شماری کے نتائج کے مطابق 19 سالوں کے دوران صوبہ بلوچستان کے 21 اضلاع میں جہاں بلوچ باشندوں کی اکثریت تھی، بلوچ آبادی 61 فیصد سے کم ہو کر 55.6 فیصد ہوگئی۔تاہم 1998 میں ملک بھر میں موجود بلوچ افراد کی ک±ل تعداد 4 ملین کی نسبت 2017 میں یہ تعداد 6.86 ملین ہوچکی ہے۔خیال رہے کہ ان اعداد و شمار میں کوئٹہ اور سبی اضلاع کی آبادی شامل نہیں جہاں بلوچ اور پشتون سمیت مختلف قومیتوں کے افراد رہائش پذیر ہیں۔مردم شماری کے دوران اکھٹا کی گئی معلومات کے مطابق اب کوئٹہ میں 2.275 ملین افراد آباد ہیں جو بلوچستان کی ک±ل آبادی کا 18.4 فیصد حصہ ہے۔ مانیٹرنگ ڈیسک


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved