ٹھیک پانچ سال پہلے ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے قتل عام کے مجرموں کا کیا بنا؟؟؟تشویشنا ک رپورٹ جاری
  12  ستمبر‬‮  2017     |     پاکستان

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاﺅن میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ اور اس میں 260 افراد کے زندہ جل جانے کے واقعہ کو آج پانچ سال ہو گئے۔ جے آئی ٹی بنی، تحقیقات میں پیشرفت کے دعوے بھی ہوئے لیکن مرکزی ملزمان آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ جاں بحق افراد کے لواحقین آج بھی انصاف کے متلاشی ہیں۔11 ستمبر سال 2012 میں پیش آنے والاخوفناک واقعہ جسے پاکستان کا نائن الیون بھی کہا جاتا ہے، حب ریور روڈ پر واقع علی انٹر پرائزز میں خطرناک آگ نے 260 جانیں نگل لیں۔ فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو تو چوبیس گھنٹوں میں پالیا گیا لیکن لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ہولناک آتشزدگی متعدد جانوں کا زیاں پھرواقعہ کو حادثہ کا رنگ دے دیا گیا۔واقعہ میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب سندھ ہائی کورٹ میں اس مقدمہ سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی کہ واقعہ بھتہ نہ دینے کا نتیجہ تھا۔ فیکٹری میں آگ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے

لگائی جبکہ قتل کے مقدمہ میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے سانحہ بلدیہ کے کرداروں کا انکشاف کیا۔ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو فروری 2015 کو حکم دیا کہ مقدمہ کو ایک سال میں نمٹایا جائے لیکن متاثرین اب تک انصاف کے طلبگار ہیں۔رینجرز کی کارروائیوں کے دوران واقعہ میں ملوث ایم کیوایم کے کارکن شکیل چھوٹا، زبیر چریا سمیت کچھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں اور ضمنی چالان میں ایم کیو ایم حماد صدیقی اور رحمان بھولا کو مفرور قرار دیا گیا۔ گزشتہ سال مقدمہ میں اہم موڑ اس وقت آیا جب مرکزی ملزم رحمان بھولا کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔واقعے کا مقدمہ پہلے سائٹ بی تھانے میں فیکٹری مالکان، سائٹ لمیٹڈ اور سرکاری اداروں کے خلاف درج کیا گیا ، مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنیں اور جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا گیا لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔چھ فروری 2015 کو عدالت میں رینجرز نے ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا کہ کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی اور اس کی وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا 20کروڑ روپے کا بھتہ تھا۔ملزم رضوان قریشی کی جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ فیکٹری کو آگ لگانے میں سیاسی جماعت کے عہدیدار ملوث ہیں۔ حماد صدیقی نے بھتہ نہ دینے پر رحمان عرف بھولا کو آگ لگانے کا حکم دیا جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیمیکل ایک ڈرم میں بھرا اور پھر فیکٹری کا مرکزی دروازہ بند کر کے آگ لگا دی گئی۔تفتیش میں اس نئے موڑ کے بعد ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں ایک نئی جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے دبئی میں جاکر فیکٹری مالکان سے تفتیش کی جنہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ان سے بھتہ مانگا گیا تھا۔سانحہ بلدیہ میں سیکیورٹی وجوہات پر تعینات اسپیشل پبلک پراسیکوٹر شازیہ ہنجرا مقدمہ سے علیحدہ ہوگئیں۔ جس کے پانچ ماہ بعد ساجد محبوب کو اس مقدمہ کا اسپیشل پبلک پراسیکوٹر تعینات کردیا گیا ۔ ساجد محبوب کے مطابق مقدمہ جہاں تھا وہیں ہے۔ سانحہ بلدیہ کو ہوئے پانچ سال گزر جانے کے باوجود آج بھی متاثرین انصاف کے منتظردکھائی دیتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved