ممتاز قادری نے پھانسی کے وقت پھندےکو چوم کر کیا نعرہ لگایا تھا ؟بالآخر اندر کی خبر لیک ہو گئی
  14  ستمبر‬‮  2017     |     پاکستان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ممتاز قادری نے پھانسی سے ایک رات قبل پوری رات عبادت میں گزاری ، ان کے بیرک سے نعت رسولﷺ اور دروسلام کی صدائیں گونجتی رہیں۔ جب ممتاز قادری کو تختہ دار پر لٹکانے کے کیلئے لایا جارہا تھا اس وقت ان کی زبان پر دوردو سلام کا ورد جاری تھا ، ان کےچہرے پر سکون اور آنکھوں میں چمک تھی ۔ممتاز قادری نے پھانسی کا پھندہ چوم لیا تھا اور لبیک یارسول ﷺ کا نعرہ لگایا تھا ۔

تحریک لبیک یارسول اللہ کے مرکزی رہنما علامہ خادم حسین رضوی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممتاز قادری شہید کی سزائے موت کے موقع پر موجود ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ جب ممتاز قادری کو ان کی کوٹھڑی سے پھانسی گھاٹ کی طرف لیجایا جارہا تھا تو جیل مینوئل کے مطابق دو پولیس اہلکاروں نے انہیں دائیں بائیں سے پکڑ نہیں رکھا تھا،بلکہ وہ خود سینہ چھوڑا کرکے ان اہلکاروں سے پانچ فٹ آگے تیزی سے چل رہے تھے۔اس دن انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور سحری میں کھجور کھائی تھی ۔ پھانسی کے تختے پر کھڑے ہوکر انہوں نے دو ڈھائی منٹ اوپر آسمان پر نظریں جمائے رکھیں اور آخری خواہش یہی کی کہ لبیک یارسول ا للہ کا نعرہ لگانے کے بعد ان کے قدموں تلے سے تختہ دار کھینچا جائے۔ پھر آخری نعرہ لبیک یارسول نعرہ لبیک یارسول اللہ تھا۔نجی روزنامے کے مطابق ممتاز قادری کو پھانسی دینے کے لیے کوئی جلاد تیار نہیں تھا جس پر کوٹ لکھپت جیل کے جلاد کو دھوکے سے بلالیا گیاتھا ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
92%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
8%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

پاکستان

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved