کیک اورسرخ گوشت کی چکنائی قبل از وقت موت کی وجہ بن سکتی ہے، تحقیق
  30  دسمبر‬‮  2016     |     سائنس/صحت
واشنگٹن(روزنامہ اوصاف) امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سرخ گوشت (بیف) اور کیک میں موجود چکنائیاں نہ صرف صحت کے لیے مضر ہیں بلکہ امراضِ قلب اور کینسر کی وجہ بن کر وقت سے پہلے موت تک بھی لے جاسکتی ہیں۔ اس بات کا انکشاف امریکا میں کیے گئے ایک بڑے اور قابلِ عمل مطالعے میں کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑے کے گوشت اور بد احتیاطی سے تیار کردہ کیکس میں سیرشدہ چکنائیاں (سیچوریٹڈ فیٹس) اور ٹرانس فیٹ کی زائد مقدار ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم کم ہوتا ہے۔ یہ چکنائیاں، مچھلی، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں میں پائی جاتی ہیں۔ سرخ گوشت اور ڈیری مصنوعات سیرشدہ چکنائیاں اور ٹرانس فیٹس پروسیس شدہ تیل سے حاصل ہوتی ہیں۔ اگر آپ مندرجہ بالا خطرناک چکنائیوں کی صرف 5 فیصد مقدار کو بھی مفید چکنائیوں سے بدل لیں تو قبل از وقت موت کا خطرہ 27 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس سروے میں ایک لاکھ سے زائد مرد و خواتین کو شامل کیا گیا اور ان کا 32 سال تک مطالعہ کیا گیا۔ ہر 2 یا 4 سال بعد لوگوں سے چکنائی کھانے کے متعلق پوچھا گیا اور شرکا کو چکنائی کھانے کی بنیاد پر 5 گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور یعنی انہیں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ چکنائیاں کھانے والے گروپوں میں رکھا گیا۔ تحقیق کے مطابق 32 سال کے عرصے میں 33 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ رپورٹ کے نگراں ماہر نے بتایا کہ اگر آپ سیرشدہ چکنائیوں کو بدل کر غیرسیرشدہ چکنائیاں استعمال کریں گے تو اس سے بہت مفید اثرات مرتب ہوں گے۔ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں کی خوراک میں سرخ گوشت اور کیک پیسٹری شامل تھے ان میں سیر شدہ چکنائیوں کی مقدار زیادہ تھی اور وہ جلد ہی امراض کے شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے گئے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرخ گوشت اور کیک وغیرہ سے دور رہ کر کینسراور امراضِ قلب کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved