ایٹم بم سے سگریٹ کس طرح جلائی جاتی ہے؟
  2  جنوری‬‮  2017     |     سائنس/صحت
لاہور (روزنامہ اوصاف )امریکی سائنسدان نے سگریٹ جلانے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیاجس کا سن کر بڑے بڑوں کے اوسان خطاہوجاتے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ ماہر فزکس ٹیڈ ٹیلر کو جب سگریٹ کی طلب ہوئی تو وہ ایٹمی بم کے ٹیسٹ کیلئے تیار کھڑے تھے اور اس جگہ کسی کے پاس بھی لائٹر یا ماچس نہ تھی۔یہ صاحب امریکہ کے صحرائے نیواڈا میں 1952ءمیں ایٹم بم کے تجربے کیلئے موجود تھے۔ ٹیلر کہتے ہیں کہ دھماکہ کرنے کی تیاری کی جا چکی تھی اور وہ محفوظ فاصلے پر اس کا مشاہدہ کرنے کیلئے کھڑے تھے۔ اچانک انہیں سگریٹ کی طلب ہوئی مگر وہاں کسی کے پاس لائٹر یا ماچس نہ تھی۔ انہوں نے ایک گول انعکاسی شیشے کو اس زاویے سے سیٹ کیا کہ یہ دھماکے کی بے پناہ روشنی کو ایک جگہ منعکس کرے اور پھر اس کے سامنے سگریٹ رکھ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب دھماکہ کیا گیا تو شیشے سے روشنی اتنی شدت کے ساتھ ایک نقطے پر مرکوز ہوئی کہ سگریٹ فوراً جل اٹھا۔ انہوں نے فوراً سگریٹ کو اٹھایا اور دو کش لگانے کے بعد اسے بجھا کر یادگار کے طور پر محفوظ کر لیا۔ بدقمستی سے کئی سال بعد وہ ایک دفعہ ایسی صورتحال میں تھے کہ سگریٹ دستیاب نہ تھا جس پر انہوں نے ایٹم بم سے سلگائے گئے یادگاری سلگریٹ کو ہی دوبارہ سلگا کر پی لیا کیونکہ وہ شدید طلب پر قابو نہ پا سکے تھے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

سائنس/صحت

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved